صدرِ مملکت نے 27ویں آئینی ترمیم پر دستخط کر دیے، آئینِ پاکستان کا حصہ بن گئی۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے 27ویں آئینی ترمیم بل پر دستخط کر دیے، جس کے بعد یہ ترمیم آئینِ پاکستان کا باضابطہ حصہ بن گئی ہے۔
ترمیمی بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد ایوانِ صدر بھجوایا گیا تھا، صدارتی دستخط کے ساتھ ہی یہ ترمیم مؤثر ہو گئی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کا مقصد پارلیمانی نظام کو مزید مؤثر بنانا اور جمہوری اداروں کو مستحکم کرنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتِ قانون و انصاف نے ترمیم کے نفاذ کے لیے نوٹیفکیشن کی تیاری شروع کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس آف پاکستان نے فل کورٹ اجلاس بلا لیا
واضح رہے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق فل کورٹ اجلاس کل نمازِ جمعہ سے پہلے منعقد ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق امور زیر غور آئیں گے۔
یہ اجلاس سپریم کورٹ کے تین ججز جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس صلاح الدین پنہور کی جانب سے لکھے گئے خطوط کے بعد طلب کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ ججز نے چیف جسٹس کو خط لکھ کر فل کورٹ اجلاس بلانے کی سفارش کی تھی تاکہ 27ویں آئینی ترمیم پر تفصیلی غور کیا جا سکے۔
فل کورٹ اجلاس میں اس آئینی ترمیم کے مختلف پہلوؤں پر مشاورت متوقع ہے جبکہ اہم قانونی و آئینی معاملات پر ججز کی آراء بھی لی جائیں گی۔





