رمضان المبارک کے دوران معدے کی سوزش یا پیپٹک السر کے شکار افراد کے لیے روزہ رکھنا بعض اوقات چیلنج بن سکتا ہے، کیونکہ طویل وقت تک معدہ خالی رہنے سے علامات میں شدت آ سکتی ہے۔
ماہرین صحت نے اس ضمن میں مریضوں کے لیے تفصیلی رہنما اصول جاری کیے ہیں تاکہ وہ محفوظ اور آرام دہ طریقے سے روزہ رکھ سکیں۔
معدے کی سوزش اور پیپٹک السر کے اسباب
ماہرین کے مطابق یہ بیماریاں مختلف عوامل کی وجہ سے پیدا ہو سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں: بیکٹیریا کے انفیکشن، سگریٹ نوشی، درد کش ادویات کا طویل استعمال، زیادہ کھانا یا مرچ مصالحے دار، چکنائی والی اور تیزابی غذا کا زیادہ استعمال شامل ہے
عام علامات
معدے کے یہ مسائل مختلف علامات کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں، جن میں شامل ہیں: معدے یا اوپری پیٹ میں درد، سینے کی جلنچ ، پیٹ پھولنا، ڈکار آنا، تیزابیت شامل ہے
روزہ رکھنے سے پہلے غور کرنے والی باتیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ روزہ رکھنے کا فیصلہ مریض کی حالت اور بیماری کی شدت کے مطابق ہونا چاہیے۔ خاص طور پر سحری چھوڑنے سے معدے میں تیزابیت بڑھ سکتی ہے، اس لیے سحری ضرور کی جائے۔ سحری میں چائے اور کیفین والے مشروبات سے پرہیز بہتر ہے، کیونکہ یہ جسم میں پانی کی کمی اور معدے کی جلن بڑھا سکتے ہیں۔
افطار میں احتیاط
افطار آہستگی سے کرنا معدے کو اچانک تیزابیت سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ کھجور اور پانی سے افطار کرنا سب سے بہتر ہے۔ ہلکے سوپ یا پھلوں کے مشروبات معدے کی صحت کے لیے مفید ہیں۔افطار میں متوازن غذا شامل کریں: کاربوہائیڈریٹس، پروٹین، سبزیاں اور پھل۔ تلی ہوئی، مرچ مصالحے دار، زیادہ نمکین یا میٹھی اشیاء سے گریز کریں۔
یہ بھی پڑھیں : آج کل نوجوانوں میں انزائٹی کیوں عام ہو گئی؟ بڑی وجہ سامنے آ گئی
پرہیز کی جانے والی غذائیں
معدے کے مریضوں کو درج ذیل اشیاء سے احتیاط کرنی چاہیے: چکنائی والی اور تلی ہوئی غذائیں، تیز مرچ مصالحے دار کھانے، کھٹی اشیاء اور ترش پھل (لیموں، مالٹا، گریپ فروٹ)، پراسیسڈ یا ڈبہ بند غذائیں، زیادہ چینی والی اشیاء، سگریٹ نوشی بھی معدے کی سوزش اور السر کی بڑی وجہ ہے، رمضان کو اسے ترک کرنے کا موقع سمجھا جا سکتا ہے۔
بہتر غذائیں
کھجور، کیلا اور بادام جیسی ہلکی غذائیں توانائی فراہم کرتی ہیں اور معدے کے لیے آرام دہ ہیں۔ تلی ہوئی اشیاء کی بجائے ابلی یا اوون میں بیک کی گئی غذائیں منتخب کریں۔
پانی اور ادویات
افطار سے سونے تک مناسب مقدار میں پانی پینا ضروری ہے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ معدے کی ادویات ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق عموماً سحری کے وقت لینا بہتر ہے۔





