پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی رہائی فورس کے قیام کے لیے پارٹی کی اجازت درکار نہیں ہوگی۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ گنڈاپور کو انٹرویوز دینے سے گریز کرنا چاہیے تھا، اور اگر کسی صورت انٹرویو دینا ہی تھا تو صرف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے معاملے پر بات کرنی چاہیے تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ تحریک انصاف کے بانی کی رہائی کے لیے بنائی جانے والی فورس کے قیام کے لیے پارٹی کی منظوری ضروری نہیں ہے، اور وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے اعلان کے بعد فورس تشکیل دی جائے گی۔
شفیع جان نے سابق تحریک انصاف رہنماؤں کی جانب سے قومی حکومت کے قیام کی تجویز پر بھی ردِعمل دیا اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان ان رہنماؤں سے ملاقات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، لہٰذا انہیں قومی حکومت کے قیام پر راضی کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : کسی کا دل دکھا ہے تو مجھے کوئی پرواہ نہیں مگرفی الوقت کیلئے آئی ایم سوری ،علی امین گنڈاپور اپنی بات پر ڈٹ گئے
جبکہ دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ میرے غصے سے کسی کا دل دکھا ہے تو معذرت خواہ ہوں مگر میرا غصہ جائز ہے۔
اپنے جاری ویڈیو بیان میں انہوں نے کہاکہ ابھی تک چھوٹی سی جائز ڈیمانڈ بھی پوری نہیں کروا سکے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو ان کا ذاتی معالج دیا جائے۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھاکہ عمران خان کی آنکھ اورصحت کے حوالے سے ہمارے تحفظات بدستور برقرارہیں، جس نے عوام کو صحت کی مفت سہولتیں فراہم کیں، آج اپنی صحت کے معاملے میں مشکلات کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو ہم نے یونیورسل ہیلتھ کارڈ دیا اورہرطرح کی بیماری کو اس میں کور کرتے گئے، جب بانی پی ٹی آئی وزیراعظم بنے تو انہوں نے پورے ملک کے عوام کو صحت کارڈ کی سہولت دی لیکن افسوس ہے آج بانی پی ٹی آئی کو ان کے ذاتی معالج تک سے ملنےنہیں دیا جا رہا۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھاکہ میرے غصے سے کسی کا دل دکھا ہے تو معذرت خواہ ہوں، مگر میرا غصہ جائز ہے، ابھی تک چھوٹی سی جائز ڈیمانڈ بھی پوری نہیں کروا سکے کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کا ذاتی معالج دیا جائے، اگر اس معاملے پر کسی کو غصہ نہیں آ رہا تو میرے خیال میں اس میں انسانیت نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ ہم سب کو اپنے مقصد پر فوکس کرنا چاہیے اور بھرپور انداز میں آواز اٹھانی چاہیے، ہم اکثر مقصد سے ہٹ کر دیگرمسئلوں میں الجھ جاتے ہیں اور اصل مقصد حاصل نہیں کر پاتے۔علی امین کا کہنا تھاکہ مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو ان تک رسائی دی جائے۔





