باجوڑ: ملنگی چیک پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں، جبکہ مقامی افراد نے حملے میں ملوث شدت پسندوں کے مبینہ سہولت کاروں کو پناہ دینے کے الزام پر ماموند کے تین دیہات کا سماجی بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق ماموند کے علاقوں انگا، شاکرو اور شاہی تنگی کے بعض افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے حملے میں شامل شدت پسند عناصر کو پناہ فراہم کی۔ اسی بنیاد پر جرگہ اور عمائدین نے ان دیہات کے خلاف سماجی بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔
حکام کے مطابق ملنگی چیک پوسٹ حملے میں ملوث افراد کی شناخت طاہر عرف مولا، اسماعیل عرف عمر اور الیاس عرف ملنگ باچا کے ناموں سے کی گئی ہے، جن کا تعلق کالعدم تنظیم سے بتایا جا رہا ہے۔
حکومت خیبر پختونخوا نے حملے کے سہولت کاروں اور معاونین کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کر دی ہے۔
سرکاری اعلان کے مطابق مذکورہ افراد کی گرفتاری یا مصدقہ اطلاع دینے پر پانچ کروڑ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے اس واقعے میں ملوث نیٹ ورک کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی اور سہولت کاری یا معاونت کرنے والوں کے خلاف بھی سخت قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
ریاستی اداروں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ علاقے میں امن و امان کی بحالی تک آپریشن بلا تعطل جاری رکھا جائے گا اور ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : باجوڑ خودکش حملے میں افغان شہری کے ملوث ہونے کی تصدیق، حملہ آور افغان طالبان کی اسپیشل فورسز کا اہلکار نکلا
یاد رہےکہ گزشتہ روز پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر میں سرحد پار سے ملوث ہونے کے ایک اور سنگین واقعے کی تصدیق ہو گئی ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق 16 فروری کو باجوڑ میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر ہونے والے خودکش دھماکے کے حملہ آور کی شناخت سید احمد عرف قاری عبداللہ کے نام سے ہوئی ہے جس کا تعلق افغانستان کے صوبہ بلخ سے تھا۔
خودکش حملہ آور سید احمد نہ صرف افغان شہری تھا بلکہ وہ افغان طالبان رجیم کی اسپیشل فورسز سے وابستہ رہا اور افغانستان میں باضابطہ طور پر سرکاری ذمہ داریاں بھی انجام دے چکا ہے۔
افغان طالبان سے وابستہ اس خودکش حملہ آور کی شناخت نے سرحد پار موجود دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کے باہمی گٹھ جوڑ کو ایک بار پھر عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ خودکش حملہ آور کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں اس کے گھر پر باقاعدہ تعزیتی اجتماع کا انعقاد بھی کیا گیاجو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طالبان کے زیرِ سایہ دہشت گردی کو سماجی سطح پر بھی پذیرائی دی جا رہی ہے۔





