محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں گرج چمک کے ساتھ شدید بارشوں کی پیشگوئی کر دی ہے۔ مون سون ہوائیں شدت اختیار کر رہی ہیں اور اگلے چند دنوں کے دوران پاکستان کے مختلف علاقوں میں موسمی حالات مزید بگڑنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کی تازہ ترین ایڈوائزری کے مطابق، بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے مرطوب ہوائیں پاکستان میں داخل ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں 14 سے 22 اگست کے دوران مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔
اسلام آباد، آزاد کشمیر، بالائی پنجاب، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں گرج چمک، تیز ہواؤں اور موسلا دھار بارش کا امکان۔وادی نیلم، مظفرآباد، راولا کوٹ، دیر، سوات، مانسہرہ، ایبٹ آباد، پشاور، مردان اور دیگر شمالی علاقوں میں شدید بارشیں متوقع ہیں۔بنوں، لکی مروت، وزیرستان، ٹانک اور ڈی آئی خان میں وقفے وقفے سے تیز بارشیں ہو سکتی ہیں۔
راولپنڈی، مری، گلیات، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور فیصل آباد میں موسلا دھار بارش، جبکہ جنوبی پنجاب میں ہلکی سے درمیانی بارش کا امکان ہے۔
بارکھان، ژوب، خضدار، گوادر، پنجگور، کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور تھرپارکر میں 18 سے 22 اگست کے دوران بارشیں متوقع ہیں۔
فلیش فلڈنگ، خیبر پختونخوا، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب اور آزاد کشمیر میں 15 تا 21 اگست کے دوران ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ،پہاڑی علاقوں میں خطرہ، ڈیرہ غازی خان اور مشرقی بلوچستان میں پہاڑی ریلوں کا خطرہ موجود ہے۔
اربن فلڈنگ، اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، پشاور اور نوشہرہ کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا امکان۔لینڈ سلائیڈنگ: گلگت بلتستان، مری، گلیات اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ۔
انفرااسٹرکچر کو نقصان، تیز ہوا اور بجلی گرنے سے کچے مکانات، اشتہاری بورڈز، کھمبے، گاڑیاں اور سولر پینلز متاثر ہو سکتے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے عوام، سیاحوں اور مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور موسمی اپڈیٹس پر نظر رکھیں۔تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال کے لیے تیاری کی ہدایت دی گئی ہے۔





