ملک کے مختلف حصوں میں بارش اور برفباری کی پیشگوئی، الرٹ جاری

بالائی علاقوں میں 6 فٹ تک برفباری، راستے بند، بجلی غائب، معمولات زندگی درہم برہم

ملک کے بالائی اور پہاڑی علاقوں میں شدید برفباری نے معمولات زندگی متاثر کر دیے ہیں اور شہریوں کو گھروں میں محصور کر دیا ہے۔ مالم جبہ میں برف کی تہ فٹوں میں جمع ہو گئی ہے، جبکہ زیارت میں ایک فٹ سے زائد برف پڑ چکی ہے۔ گلیات، نتھیا گلی اور ٹھنڈیانی میں بھی ایک، ایک فٹ تک برفباری ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث کمراٹ اور گلیات کی تمام شاہراہیں مکمل طور پر بند ہوگئی ہیں۔

علاقے میں گزشتہ پانچ دنوں سے بجلی معطل ہے، جس کی وجہ سے شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور خوراک و ادویات کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

ملکہ کوہسار مری میں بھی 9 انچ تک برف پڑ چکی ہے، جس کے باعث مال روڈ، جھیکا گلی اور نتھیا گلی سیاحوں کے لیے بند کر دی گئی ہیں، صرف پہلے سے بکنگ شدہ افراد کو اجازت دی گئی ہے۔ شوگران جانے والی سڑک بھی بند ہے، جبکہ ناران سے کاغان تک کے راستے بحال کر دیے گئے ہیں۔ چترال اور سوات کی سڑکیں صرف فور بائی فور گاڑیوں کے لیے کھولی گئی ہیں۔

کوئٹہ، قلات، مستونگ، کان مہترزئی، مسلم باغ اور چمن میں بھی برف کی موٹی تہ بچھ گئی ہے۔ وادی باغ میں برفباری کا سات سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا جبکہ بالائی وادی نیلم میں 6 فٹ سے زائد برف پڑی ہے۔ بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے، اور شہری گھروں میں محصور ہیں۔

پیر چناسی، بالائی نیلم، لیپہ ویلی، سدھن گلی، لسڈنہ، محمود گلی سمیت متعدد بالائی علاقوں کی شاہراہیں بدستور بند ہیں۔ بالائی علاقوں میں سڑکوں کی بحالی کے لیے انتظامی اور ریسکیو ٹیمیں دن رات مصروف ہیں، تاہم موسمی حالات کے باعث کام میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں مزید برفباری کی پیشگوئی ہے، جس سے بالائی علاقوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ہنگامی صورت حال میں متعلقہ حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔

Scroll to Top