شوکت یوسفزئی کی اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے حوالے سے پی ٹی آئی کے موقف کی وضاحت

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ پارٹی کی طرف سے کسی کو بھی اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کرنے کا نہیں کہا گیا۔

انہوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری فکر کا اظہار کیا تھا۔

شوکت یوسفزئی نے پارٹی کے اندرونی معاملات پر بھی بات کی اور کہا کہ وہ خود پارٹی کی قیادت کی جانب سے “نمبر بلاک” کیے جانے کا شکار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی پر کسی فرد یا گروہ کی سوچ مسلط نہیں کی جا سکتی اور پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والوں پر قیادت کو کھل کر بولنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی کا گروپ یا اختلاف ہے تو وہ اپنا نقصان خود کرے گا۔ شوکت یوسفزئی نے مولانا فضل الرحمان کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ انہیں علی امین گنڈا پور کے حوالے سے شرائط عائد نہیں کرنی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی علی امین گنڈا پور کے خلاف بات کرے گا تو وہ اس کا جواب دیں گے اور مولانا فضل الرحمان دونوں اطراف کھیل رہے ہیں۔

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ جے یو آئی (ف) کو ڈیرہ اسماعیل خان کی سیاست سے باہر نکلنا ہوگا اور انہوں نے علی امین گنڈا پور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اتحاد ہوتا ہے تو پارٹی ڈسپلن کو مکمل طور پر فالو کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مذاکرات کی خبر درست ہے، حسنات ملک کا دعویٰ

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی کے خلاف تمام جعلی کیسز بنائے گئے ہیں اور پارٹی چاہتی ہے کہ ایک گرینڈ الائنس قائم ہو تاکہ ملک کی سیاست میں استحکام لایا جا سکے۔

Scroll to Top