روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایسٹر کے موقع پر یوکرین میں عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے، جب کہ دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کا اب تک کا سب سے بڑا تبادلہ بھی عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ اعلان ماسکو کی یوکرین پر تین سال سے جاری مکمل فوجی کارروائی کے دوران سامنے آیا۔
کریملن کے مطابق، جنگ بندی کا اطلاق ہفتہ کے روز شام 6 بجے سے پیر کی نصف شب تک رہے گا، صدر پیوٹن نے جنرل سٹاف کے سربراہ والیری گیراسیموف کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ انسانی بنیادوں پر روس جانب سے اتوار کی شام 6 بجے سے پیر کی آدھی رات تک ایسٹر جنگ بندی کا اعلان کیا جاتا ہے اس دوران تمام فوجی کارروائیاں روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔
پیوٹن نے مزید کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ یوکرینی فریق بھی اسی طرح کا رویہ اپنائے گا تاہم ہماری افواج کو جنگ بندی کی کسی ممکنہ خلاف ورزی یا دشمن کی کسی جارحانہ کارروائی کا جواب دینے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس جنگ بندی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ انسانی جانوں سے کھیلنے کی ایک اور کوشش ہے، ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے لکھا کہ یوکرین بھر میں فضائی حملے کے سائرن بج رہے ہیں اور شاہر ڈرونز ہماری فضاؤں میں موجود ہیں، جو پیوٹن کے اصل عزائم کو بے نقاب کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹس منصور علی شاہ 21 اپریل کو قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے
ہفتے کے روز روس اور یوکرین کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ بھی عمل میں آیا۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق 246 روسی فوجیوں کو یوکرینی کنٹرول والے علاقوں سے بازیاب کرایا گیا جبکہ 31 زخمی یوکرینی قیدیوں کو 15 زخمی روسی فوجیوں کے بدلے میں واپس بھیجا گیا جنہیں فوری طبی امداد کی ضرورت تھی۔
دونوں ممالک نے متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس تبادلے میں ثالثی کا کردار ادا کیا، صدر زیلنسکی نے تصدیق کی کہ 277 یوکرینی فوجی وطن واپس پہنچے ہیں۔





