چین کے شہر بیجنگ میں ہونے والے ہاف میراتھن میں اس بار ایک حیران کن منظر دیکھنے کو ملا جہاں انسانوں کے ساتھ دوڑ میں حصہ لینے کے لیے جدید بائی پیڈل ہیومنائیڈ روبوٹس بھی سڑکوں پر اُتر آئے۔
دنیا کے پہلے ہیومنائیڈ رننگ روبوٹ ’’تیانگونگ الٹرا‘‘ نے 21 کلومیٹر کی دوڑ صرف دو گھنٹے 40 منٹ میں مکمل کی۔ تاہم اپنی تمام تر تکنیکی برتری کے باوجود یہ روبوٹ سب سے تیز ترین انسانی دوڑنے والے سے خاصا پیچھے رہا جس نے محض ایک گھنٹہ اور 11 منٹ میں فنش لائن عبور کی۔
دوڑ میں 10,000 سے زائد انسانوں کے ساتھ 20 بائی پیڈل روبوٹس نے بھی حصہ لیا، حفاظتی اقدامات کے تحت روبوٹس کے لیے علیحدہ ٹریک اور خصوصی امدادی اسٹیشنز بنائے گئے جہاں پانی یا مشروبات کے بجائے ان کے لیے بیٹریاں اور ضروری پرزہ جات فراہم کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور مکمل، اگلا اجلاس آئندہ ہفتے متوقع
ریس کو مکمل طور پر ایک تکنیکی مظاہرہ قرار دیا گیا جس کا مقصد روبوٹ ٹیکنالوجی کی ترقی اور ان کے توازن و رفتار کا مشاہدہ کرنا تھا۔
انجینیئرز راستے میں روبوٹس کی کارکردگی کا تجزیہ کرتے رہے اور انہیں ضرورت کے مطابق اپڈیٹ کرتے گئے، یہ ایونٹ جہاں ایک دلچسپ مظاہرہ تھا، وہیں یہ مستقبل کے روبوٹک امکانات کی ایک جھلک بھی پیش کر گیا۔





