ہارورڈ یونیورسٹی نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے 2.2 ارب ڈالر کی تحقیقی فنڈنگ منجمد کیے جانے کو اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا۔
یونیورسٹی کے صدر، ایلن گاربر کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ تعلیمی و سائنسی آزادی پر براہِ راست حملہ ہے۔
ایلن گاربر نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت کی یہ مہم دراصل تعلیمی اداروں پر غیر ضروری اور نامناسب کنٹرول قائم کرنے کی کوشش ہے، جو مستقبل کے طبی و سائنسی منصوبوں کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔
ان کے مطابق تحقیقاتی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کر کے نیشنل سائنٹیفک کمیونٹی کو پٹری سے اتارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں ٹرمپ پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل، امریکا کی 50 ریاستیں “آزادی” کے نعروں سے گونج اٹھیں
واضح رہے کہ گزشتہ روز سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہارورڈ یونیورسٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے نفرت اور حماقت سکھانے والا ادارہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہارورڈ اب ایک معیاری تعلیمی ادارہ نہیں رہا اور وفاقی فنڈنگ کا مستحق نہیں۔
ہارورڈ یونیورسٹی کی جانب سے دائر کردہ مقدمے میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ تحقیقاتی فنڈز کی معطلی نہ صرف سائنسی ترقی کو روک سکتی ہے بلکہ ہزاروں طلبا، محققین اور پروفیسرز کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔





