اسلام آباد ہائیکورٹ، ماتحت عدلیہ کے 2 ججز کی خدمات پشاور ہائیکورٹ کو واپس

عدالت نے انتظامیہ کو شہریوں کے شناختی کارڈ منسوخ کرنے سے روک دیا

پشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم اور حساس نوعیت کے کیس میں باجوڑ انتظامیہ کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے خلاف جاری شناختی کارڈ کی منسوخی اور ملک بدری کے احکامات پر حکم امتناع جاری کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ جسٹس وقار احمد اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سید قاسم کی جانب سے دائر کردہ رٹ پٹیشن پر سماعت کے دوران دیا۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ وہ پیدائشی پاکستانی شہری ہیں اور ان کے والد و دادا کے پاس قومی شناختی کارڈز اور پاکستان میں جائیداد کا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل، سیف اللہ محب کاکاخیل ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، نے عدالت کو بتایا کہ باجوڑ کے ریونیو افسران بشمول اسسٹنٹ کمشنر اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے، درخواست گزار کو محض “راشن پاس” جیسے غیر متعلقہ اور پرانے ریکارڈ کی بنیاد پر غیر ملکی قرار دیا، اور وزارت داخلہ و دیگر اداروں کو شناختی کارڈ منسوخی اور ملک بدری کے خطوط ارسال کیے۔

یہ بھی پڑھیں: عدالتی احکامات کی تعمیل نہ کرنے پر ایس ایس پی کی تنخواہ بند

وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ “راشن پاس” ایک ایسا دستاویز ہے جو ماضی میں افغان مہاجرین اور پسماندہ طبقات کو راشن کی تقسیم کے لیے استعمال ہوتا تھا، اور اسے پاکستانی شہریت کے خلاف ثبوت کے طور پر پیش کرنا ناانصافی اور غیر قانونی اقدام ہے۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد باجوڑ کے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، نادرا اور وزارت داخلہ سے جواب طلب کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلی سماعت تک شناختی کارڈ کی منسوخی اور ملک بدری کے احکامات پر عمل درآمد نہ کیا جائے۔

Scroll to Top