پشاور: خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بہتری کے لیے حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے سیف سٹیز پراجیکٹ کے پہلے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی موجودگی میں ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ معاہدہ خیبرپختونخوا پولیس اور نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این آر ٹی سی) کے درمیان طے پایا، جس کی تقریب وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقد ہوئی۔
وزیراعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کا قیام ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا اسی ترجیح کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیف سٹیز منصوبہ خیبرپختونخوا میں جدید پولیسنگ اور نگرانی کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔
اس منصوبے کا پہلا مرحلہ پشاور شہر میں شروع کیا جا رہا ہے جس پر دو ارب بیس کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ اس مرحلے میں پشاور کے 125 مقامات پر مجموعی طور پر 710 جدید کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ منصوبہ چھ ماہ کے اندر مکمل کیا جائے گا اور اس کے ذریعے شہر میں جرائم پر قابو پانے کے لیے مؤثر نگرانی ممکن ہو سکے گی۔
دوسرے مرحلے میں پشاور شہر کے مزید 600 مقامات پر نگرانی کے کیمرے لگائے جائیں گے اور ایک جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول روم قائم کیا جائے گا جس پر پانچ ارب روپے خرچ ہوں گے۔ اس مرحلے کو ایک سال کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور سیف سٹی پراجیکٹ پرکام شروع کرنےکا فیصلہ
منصوبے کا دائرہ کار صرف پشاور تک محدود نہیں بلکہ اسے بتدریج دیگر اہم شہروں تک بھی توسیع دی جائے گی۔ ان میں ڈی آئی خان، بنوں، لکی مروت، شمالی وزیرستان، کرک، مردان، سوات، کوہاٹ، ایبٹ آباد سمیت دیگر حساس اور ڈویژنل اضلاع شامل ہیں۔
سیف سٹیز پراجیکٹ میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنایا جا رہا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت سے نگرانی، ای چالان، ڈیجیٹل فارنزک اور ایمرجنسی رسپانس سسٹم جیسی سہولیات شامل ہوں گی۔ اس منصوبے کے تحت تمام سیکیورٹی اداروں کا ڈیٹا ایک مربوط نظام کے تحت منسلک ہوگا، تاکہ فوری اور مؤثر کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
حکومت اس پراجیکٹ کے لیے باقاعدہ قانونی سازی بھی کرے گی، تاکہ اس کے تمام پہلو مکمل قانونی تحفظ کے ساتھ آگے بڑھائے جا سکیں۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ تمام کمرشل پراجیکٹس کے نگرانی کیمرے بھی اس نیٹ ورک کا حصہ ہوں گے، تاکہ ہر ممکن زاویے سے سیکیورٹی کی نگرانی کی جا سکے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سیف سٹیز منصوبہ نہ صرف ایک ٹیکنالوجی بیسڈ سیکیورٹی اقدام ہے بلکہ یہ خیبرپختونخوا میں ایک محفوظ، بااعتماد اور پُرامن معاشرے کی بنیاد رکھنے کی کوشش ہے، جس کے اثرات طویل المدتی ہوں گے۔





