جنوبی ایشیا میں امن جوہری خطرات میں کمی کے باہمی اقدامات سے ممکن: جنرل ساحر شمشاد مرزا

راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے زیر اہتمام ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے دور میں نیوکلیئر ڈیٹرنس کے عنوان سے ایک دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں دنیا بھر سے ممتاز ماہرین اور سکالرز نے شرکت کی۔

کانفرنس کا مقصد عالمی اسٹریٹجک چیلنجز پر تعمیری مکالمے کو فروغ دینا اور پاکستان کے پالیسی مؤقف کو عالمی برادری کے سامنے رکھنا تھا۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور افتتاحی روز کلیدی خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے درپیش نئے چیلنجز پر روشنی ڈالی اور ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور مؤثر مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔

جنرل شمشاد مرزا نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام صرف اس وقت ممکن ہے جب خطے کے ممالک جوہری خطرات میں کمی کے لیے باہمی اقدامات اختیار کریں اور جیوسٹریٹیجک توازن کو وسعت دیں۔ انہوں نے اسٹریٹجک استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں سانحہ جعفر ایکسپریس، ڈی جی آئی ایس پی آر آج اہم پریس کانفرنس کریں گے

آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تخفیف اسلحہ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ڈیٹرنس اسٹڈیز، آسٹریلیا، کینیڈا، چین، روس اور یورپی یونین سمیت دنیا بھر سے اہم اداروں اور تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے۔

یہ کانفرنس نہ صرف پاکستان کے سٹریٹجک وژن کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا ذریعہ بنی بلکہ خطے اور دنیا میں بڑھتے ہوئے دفاعی و سیکیورٹی چیلنجز کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت کو بھی واضح کیا۔

Scroll to Top