اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے واضح کیا ہے کہ پارٹی کا کسی بھی بیک ڈور یا فرنٹ ڈور رابطے سے کوئی تعلق نہیں، اور بانی پی ٹی آئی نے کسی کو بھی کسی قسم کی ڈیل کے اختیارات نہیں دیئے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ نہ کوئی خفیہ ملاقات ہوئی ہے، نہ ہی کسی قسم کی ڈیل کی اجازت دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری بھی یہی خواہش ہے کہ ملک کے سیاسی مسائل کا سیاسی حل نکالا جائے، اور اس کے لیے مذاکرات ایک اہم راستہ ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے اعتراف کیا کہ 26 نومبر سے پہلے ایک رابطہ ضرور ہوا تھا، جس کا پہلے بھی ذکر کیا گیا تھا، اور وہ رابطہ کافی مثبت تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ رابطہ برقرار رہتا، تو شاید کسی سطح پر مذاکرات کا آغاز ہو جاتا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے ذریعے یہ رابطہ قائم ہوا تھا، اور پارٹی چیئرمین نے ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں جے یو آئی کے ساتھ اتحاد نہ ہونے پر بیرسٹر گوہر کا اہم ردِ عمل سامنے آ گیا
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا، اگر کسی سے محض رابطہ ہو بھی جائے، تو اسے ڈائیلاگ نہیں کہا جا سکتا۔ مذاکرات تب ہوتے ہیں جب دونوں فریقین باقاعدہ بیٹھ کر گفتگو کریں اور حل تلاش کریں۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت جس نہج پر کھڑا ہے، اس میں سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے، اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب تمام اسٹیک ہولڈرز بیٹھ کر سیاسی حل تلاش کریں۔
انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کر دیا کہ پی ٹی آئی کسی پس پردہ ڈیل یا خفیہ معاہدے کی جانب جا رہی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کی پالیسی شفاف ہے اور بانی کی واضح ہدایت ہے کہ کسی بھی قسم کی خفیہ بات چیت سے گریز کیا جائے۔





