غزہ: اسرائیلی فوج کی غزہ پر جاری سفاکانہ بمباری کے نتیجے میں مزید 32 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں نہتے شہریوں، بچوں اور پناہ گزینوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
خان یونس میں بے گھر فلسطینیوں کے خیمہ بستی پر بمباری سے آگ بھڑک اٹھی، جس میں جھلس کر 11 افراد شہید ہوئے۔ مغربی غزہ سٹی میں ایک رہائشی گھر پر فضائی حملہ کیا گیا، جس میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ نصیرات پناہ گزین کیمپ پر جنگی طیاروں کے حملے میں 3 عام شہری، جن میں 2 بچیاں بھی شامل تھیں، شہید ہوئیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ان مشینری اور بلڈوزروں کو بھی نشانہ بنایا گیا جو تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے افراد کی لاشیں نکالنے کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔ بمباری کی شدت کے باعث غزہ میں جاری پولیو ویکسین مہم بھی معطل کر دی گئی ہے، جس سے بچوں کی صحت مزید خطرے میں پڑ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں غزہ پر اسرائیل کا محاصرہ، غذائی بحران کی شدت میں اضافہ، ہزاروں بچے متاثر
دوسری جانب خطے میں قیام امن کے لیے اردن اور مصر نے ایک نئی جنگ بندی تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت 5 سے 7 سالہ سیز فائر، اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا، اور قیدیوں کے تبادلے کی شقیں شامل ہیں۔ یہ تجاویز دونوں فریقین کو پیش کر دی گئی ہیں، تاہم ابھی ان پر کوئی پیش رفت رپورٹ نہیں ہوئی۔
اسرائیلی سیاسی محاذ پر بھی ہلچل دیکھنے میں آئی ہے۔ اسرائیل کی داخلی سلامتی ایجنسی “شن بیت” کے سربراہ رونن بار نے اپنے حلفیہ بیان میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ پالیسیوں سے نہ صرف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ داخلی بحران بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔





