عمران خان نے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کے بیانات اور معدنی وسائل بل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق عمران خان نے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کے حالیہ بیانات اور خیبرپختونخوا میں پیش کیے گئے مائنز اینڈ منرلز بل پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، اڈیالہ جیل میں وکلا سے ہونے والی ملاقات کے دوران عمران خان نے پارٹی کی حالیہ صورتحال، اندرونی اختلافات اور سیاسی حکمت عملی پر تفصیلی گفتگو کی۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے شیر افضل مروت کے بیانات پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے ان کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور شیخ وقاص اکرم کو ان کا دو ٹوک جواب دینے کی ہدایت کی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ شیر افضل مروت کو پارٹی میں ایک منصوبے کے تحت شامل کیا گیا تھا اور اب ان سے ’’جان چھوٹنا‘‘ پارٹی کے لیے بہتر ہے۔ انہوں نے خاص طور پر وکلا کی فیسوں اور علیمہ خان سے متعلق مروت کے بیانات کو افسوسناک قرار دیا۔
علاوہ ازیں، عمران خان نے خیبرپختونخوا میں مائنز اینڈ منرلز بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کو ملاقات کے لیے بلایا ہے تاکہ اس معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق، عمران خان نے کہا کہ ’’ہمیں اسٹیبلشمنٹ کی نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کو پی ٹی آئی کی ضرورت ہے‘‘۔ انہوں نے بیرسٹر گوہر کے حالیہ معذرت خواہانہ رویے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں سخت پیغام بھجوایا، اور پارٹی قیادت کو اندرونی اختلافات ختم کرنے اور متحد ہونے کی ہدایت دی۔
عمران خان نے افغانستان کے ساتھ بات چیت میں حکومتی تاخیر پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ خیبرپختونخوا اس وقت دہشت گردی سے شدید متاثر ہے، جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے سلمان اکرم راجہ کو چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
مزید برآں، انہوں نے مولانا فضل الرحمان کی طرف سے ہر بار رابطے پر اعتراض کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم قومی مفاد میں سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔‘‘





