سربراہ اے این پی ایم ولی خان نے کہاہے کہ سڑکیں بند کرنا جمہوری اقدام ہے، ہم نے کسی گاڑی کو نہیں جلایا۔
تفصیلات کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ ایمل ولی خان نے مائنز اینڈ منرلز بل کو آئین پاکستان پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بل اٹھارویں ترمیم پر ڈاکا اور صوبائی خودمختاری کی نفی ہے، جسے کسی صورت منظور نہیں ہونے دیا جائے گا۔ہمیں معلوم ہے کہ یہ بل کس کی ایماء پر لایا گیا ہے۔ وفاق اور صوبائی حکومت آئین پاکستان پر حملہ آور ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ آئین کی رُو سے سمندر میں موجود معدنی وسائل وفاق کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جب کہ زمین میں موجود تمام وسائل صوبوں کی ملکیت ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ گرین چولستان کس کی ضرورت ہے؟ کیا اس کے لیے کالا باغ ڈیم کا پرانا منصوبہ دوبارہ زندہ کیا جا رہا ہے؟ ہم اس ناانصافی کے خلاف کھڑے ہیں۔ایمل ولی خان نے اسمبلی کی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف آئی فون ہے اور دوسری طرف آئی فون پرو میکس، یعنی اصل خدمت ایک ہی جگہ ہو رہی ہے، صرف پردے بدلے گئے ہیں۔
انہوں نے علی امین گنڈاپور کو نشانے پر رکھتے ہوئے کہا کہ علی امین صرف احکامات کے غلام ہیں، لیکن ہم اس بل کو روکیں گے۔ یہ دن دہاڑے آئینی چوری ہے۔
اے این پی سربراہ نے مزید کہا کہ ہم نے انگریزوں کو ملک سے نکالا، آمروں کا خاتمہ کیا، اور اب یہ بل عوام کے حقوق پر حملہ ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس وقت حکومت ہم نوا اور اپوزیشن طبلہ نواز ہے، لیکن فنکار ایک ہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جلد ہی ملک بھر میں کانفرنسز منعقد کی جائیں گی، اور ایک مؤثر سیاسی تحریک شروع کی جائے گی۔ یہ راستہ میرے لیے سخت ہے، لیکن میں اپنی قوم اور آئین کی سربلندی کے لیے کھڑا ہوںیاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ہم نے اٹھارویں ترمیم پاس کرائی، جو آج بھی کچھ حلقوں کو کھٹک رہی ہے، لیکن ہم اس پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔





