طورخم بارڈر سے افغان باشندوں کی واپسی جاری، 24 گھنٹوں میں 2258 افراد افغانستان روانہ
خیبرپختونخوا کے محکمہ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق طورخم بارڈر کے ذریعے افغانستان واپس جانے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2258 افغان باشندے سرحد عبور کر کے اپنے وطن واپس چلے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ان افراد میں 1571 ایسے افغان شہری شامل ہیں جو پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم تھے اور انہیں ملک بدر کیا گیا۔ باقی 727 افغان باشندے افغان سٹیزن کارڈ کے حامل تھے، جنہوں نے رضاکارانہ طور پر واپسی اختیار کی۔
محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ رواں سال یکم اپریل سے اب تک 46 ہزار 244 افغان باشندے پاکستان سے واپس افغانستان جا چکے ہیں۔ اس سے قبل ستمبر 2023ء سے شروع ہونے والی ملک بدری مہم کے دوران اب تک مجموعی طور پر 5 لاکھ 20 ہزار 447 افغان باشندے دو مرحلوں میں وطن واپس جا چکے ہیں۔
رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ ملک بدری کے پہلے مرحلے کے دوران ایک چینی شہری کو بھی سوست بارڈر کے ذریعے واپس بھیجا گیا تھا۔
افغان باشندوں کی واپسی کا یہ سلسلہ پاکستانی حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے، جسے انسانی بنیادوں اور سلامتی کے پیش نظر منظم طریقے سے جاری رکھا جا رہا ہے۔





