خیبرپختونخوا میں مقامی سطح پر منکی پاکس کی منتقلی کا پہلاکیس رپورٹ

خیبرپختونخوا سے منکی پاکس کا نیا کیس سامنے آگیا

پشاور: خیبرپختونخوا میں منکی پاکس کا ایک اور کیس رپورٹ ہوا ہے، جس کے بعد صوبے میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 8 ہو گئی ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق 31 سالہ مریض حال ہی میں خلیجی ممالک سے واپس پشاور آیا تھا، جہاں علامات ظاہر ہونے پر اُسے اسپتال لایا گیا۔

حکام کے مطابق متاثرہ شخص کو فوری طور پر آئسولیٹ کر دیا گیا ہے تاکہ دیگر افراد کو وائرس سے بچایا جا سکے۔ محکمہ صحت کی ٹیمیں مریض سے رابطے میں آنے والے افراد کا ڈیٹا جمع کر رہی ہیں تاکہ وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

منکی پاکس کے حوالے سے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بیماری کی ابتدائی علامات میں بخار، جسم میں درد، غدود کا سوج جانا اور جلد پر خارش شامل ہیں، جو عموماً انفیکشن کے 4 سے 15 دن بعد ظاہر ہوتی ہیں۔

متاثرہ جلد کے ذریعے بیماری کا پھیلاؤ ممکن ہے، خاص طور پر اگر خارش زدہ جلد پر زخم یا انفیکشن ہو۔

یہ بھی پڑھیں خیبرپختونخوا میں مقامی سطح پر منکی پاکس کی منتقلی کا پہلاکیس رپورٹ

محکمہ صحت کے مطابق کمزور قوت مدافعت رکھنے والے افراد، خاص طور پر بچے، اس وائرس سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ 90 سے 95 فیصد مریض بغیر کسی پیچیدگی کے صحتیاب ہو جاتے ہیں۔

حکام نے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ شدید صورتِ حال میں اینٹی وائرس ادویات تجویز کی جا سکتی ہیں۔

Scroll to Top