سرینگر/نئی دہلی: مقبوضہ جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 26 سیاحوں کی ہلاکت اور 12 کے زخمی ہونے کے بعد بھارتی حکومت کو شدید عوامی ردعمل کا سامنا ہے۔ لواحقین اور کشمیری عوام نے واقعے کو مودی سرکار کی ناکامی اور فالس فلیگ آپریشن قرار دے دیا۔
منگل کے روز پہلگام میں ہونے والے اس حملے نے پورے بھارت اور کشمیر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ ہلاک ہونے والے افراد میں ایک بنکار کی لاش جب سورت پہنچی تو اس کی بیوہ نے تعزیت کیلئے آئے یونین منسٹر سی آر پاٹل کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا: تمہاری جانیں قیمتی ہیں، ٹیکس دینے والوں کی کوئی اہمیت نہیں؟ اس نے سوال اٹھایا کہ حملے کے وقت پہلگام میں نہ سکیورٹی فورسز موجود تھیں، نہ ہی کوئی میڈیکل یونٹ۔
مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والی ایک اور متاثرہ خاتون، پارس جین، نے دعویٰ کیا کہ حملہ 25 سے 30 منٹ تک جاری رہا لیکن کوئی اہلکار مدد کے لیے نہیں آیا۔
کشمیری عوام نے واقعے کو بھارت کا ایک اور فالس فلیگ آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس مقام پر حملہ ہوا وہاں عام گاڑی کا جانا بھی ممکن نہیں، اور وہاں سخت سکیورٹی ہوتی ہے، پھر دہشت گرد کیسے پہنچے؟ عوام کا کہنا ہے کہ مودی سرکار جان بوجھ کر کشمیریوں کے درمیان بھائی چارہ ختم کرنا چاہتی ہے۔
مودی حکومت نے سکیورٹی ناکامی کا ملبہ ہوٹل مالکان پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ سیاحوں کو پولیس کی اجازت کے بغیر لے جایا گیا۔ تاہم، وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی تسلیم کیا کہ واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا اور یہ کہ علاقے میں سیکیورٹی کا فقدان تھا۔
یہ بھی پڑھیں بھارت دہشتگرد تنظیموں کو ہتھیار دے کر پاکستان میں بدامنی پھیلانا چاہتا ہے، خواجہ آصف
واقعے کے بعد بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے اور اب تک 1500 سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پہلگام سانحہ نے نہ صرف بھارتی سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ مودی حکومت کی کشمیر پالیسی بھی کڑی تنقید کی زد میں ہے۔





