بھارتی فوج کا کسانوں کو 48گھنٹے میں سرحدوں پر موجود کھیت خالی کرنے کا حکم

بھارتی فوج کا کسانوں کو 48گھنٹے میں سرحدوں پر موجود کھیت خالی کرنے کا حکم

بی ایس ایف نے سرحدی علاقوں کے کسانوں کو فصلوں کی کٹائی اور کھیت خالی کرنے کا حکم جاری کردیا

تفصیلات کے مطابق پہلگام حملے کے بعد بھارت کی بوکھلاہٹ کھل کر سامنے آ گئی ہے، بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے سرحدی علاقوں کے کسانوں کو 48 گھنٹوں میں فصلوں کی کٹائی مکمل کرنے اور کھیت خالی کرنے کا سخت حکم جاری کر دیا ہے، بصورت دیگر ان کے کھیتوں تک رسائی بند کر دی جائے گی۔بی ایس ایف کی سخت ہدایات نے بھارتی پنجاب کے سرحدی اضلاع، خصوصاً امرتسر، ترن تارن، فیروزپور اور فاضلکہ کے ہزاروں کسانوں کو شدید خوف اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ مقامی دیہاتوں کے گردواروں میں اعلانات کیے جا رہے ہیں کہ اگر فوری طور پر کھیت خالی نہ کیے گئے تو بارڈر گیٹس بند کر دیے جائیں گے۔

بھانگلا گاؤں کے کسان رگھبیر سنگھ نے انکشاف کیا کہ بی ایس ایف اہلکار دو دن سے مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں کہ کھیت جلدی خالی کیے جائیں، ورنہ راستے بند کر دیے جائیں گے۔ کسانوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر بھوسہ اکٹھا کرنے میں تاخیر ہوئی تو مویشیوں کے لیے چارے کی شدید قلت پیدا ہو جائے گی اور آئندہ دھان کی کاشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

بی ایس ایف نے بوکھلاہٹ میں مزید زرعی مشینری کی سرحدی علاقوں میں منتقلی کی اجازت دے دی ہے تاکہ کسان فصل کی کٹائی جلد مکمل کر سکیں۔ تاہم کسانوں کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر دو دن میں کام مکمل کرنا ناممکن ہے۔

فیروزپور ضلع کے راجہ رائے گاؤں کے کسان لکشویندر سنگھ کے مطابق اگرچہ گندم کی 80 فیصد کٹائی ہو چکی ہے، مگر بھوسہ اکٹھا کرنا اب بھی ایک چیلنج ہے۔

بی ایس ایف کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اعتراف کیا ہے کہ یہ ہدایات پاکستان کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر دی گئی ہیں۔ پہلگام حملے کے بعد سرحدی راستوں کی بندش اور بڑھتی کشیدگی نے کسانوں کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔

سرکاری موقف میں بی ایس ایف کا کہنا ہے کہ سرحدی سیکیورٹی کے پیش نظر یہ اقدامات ضروری ہیں تاکہ کچے کھیت نگرانی میں رکاوٹ نہ بنیں۔ دوسری جانب، جب سوشل میڈیا پر بی ایس ایف کے احکامات کی ویڈیوز وائرل ہوئیں تو امرتسر کی ڈپٹی کمشنر سکشی ساونی نے وضاحت دی کہ “بی ایس ایف کی جانب سے کوئی سرکاری حکم جاری نہیں ہوا”، اور شہریوں کو افواہوں پر دھیان نہ دینے کی ہدایت کی۔ تاہم زمینی حقائق اور کسانوں کی براہِ راست شکایات نے سرکاری دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔

سرحدی علاقوں کے کسانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر زیادہ مشینری فراہم کی جائے تاکہ فصلیں وقت پر کاٹی جا سکیں، بصورت دیگر وہ بی ایس ایف کے اعلیٰ حکام سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بھارت نے روایتی جنگ چھیڑی تو خود بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ ان کے مطابق،جنگ کا آغاز بھارت کرے گا، لیکن اختتام پاکستان کرے گا۔

Scroll to Top