محبت کی شادی کیلئے بھارت جانیوالی سیما حیدر کو جارحانہ اقدامات کا سامنا، 3 روز میں ملک چھوڑنے کا حکم

محبت کی شادی کیلئے بھارت جانیوالی سیما حیدر کو جارحانہ اقدامات کا سامنا، 3 روز میں ملک چھوڑنے کا حکم

محبت کی شادی کے لیے بھارت جانے والی سیما حیدر کو 3 دن میں ملک چھوڑنے کا حکم، بھارتی حکومت کے جارحانہ اقدامات کی زد میں آگئیں

تفصیلات کے مطابق محبت کی شادی کے لیے پاکستان میں اپنے شوہر کو چھوڑ کر بچوں کے ہمراہ بھارت جانے والی سیما حیدر بھارت کی مرکزی حکومت کی جانب سے پہلگام واقعے کے بعد کیے جانے والے جارحانہ اقدامات کی زد میں آگئی ہیں اور انہیں 3 دن میں بھارت چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔

انڈیا ٹوڈے رپورٹ کے مطابق، بھارت کی مرکزی حکومت نے 27 اپریل تک پاکستان کی شہریت رکھنے والے تمام افراد کو ملک چھوڑنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ سیما حیدر کے وکیل اے پی سنگھ نے بھارت میں موجود جارحانہ رویے کے باوجود امید ظاہر کی ہے کہ ان کی مؤکلہ کو بھارت میں رہنے کی اجازت مل جائے گی، اور ان کا موقف ہے کہ سیما حیدر اب پاکستان کی شہری نہیں ہیں۔

اے پی سنگھ نے کہا کہ سیما حیدر نے سچن مینا سے شادی کی ہے اور وہ گریٹر نوئیڈا میں اپنے شوہر کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ سیما حیدر کا تعلق اب بھارتی خاندان سے ہے، اس لیے مرکزی حکومت کے احکامات ان پر لاگو نہیں ہونے چاہئیں۔

سیما حیدر کی شہریت اب ان کے بھارتی شوہر سے جڑی ہوئی ہے، اور ان کا کیس دوسرے پاکستانی شہریوں سے مختلف ہے، جن پر حکومت کے نئے احکامات کا اطلاق ہو رہا ہے۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ سیما حیدر نے بھارت کے صدر کو درخواست بھی دی ہے اور وہ اس وقت ضمانت پر آزاد ہیں۔

واضح رہے کہ سیما حیدر نے مبینہ طور پر سندھ سے براستہ نیپال بھارت کا سفر کیا اور بھارت میں اپنے شوہر سچن مینا سے شادی کی۔ ان کے ہاں حال ہی میں بیٹی کی پیدائش بھی ہوئی ہے جس کا نام بھارتی مینا رکھا گیا ہے۔

بھارت کی مرکزی حکومت کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے ویزے منسوخ کرنے کا فیصلہ پہلگام حملے کے بعد کیا گیا تھا، جس کے تحت پاکستانی شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

Scroll to Top