سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستانی وزارت خارجہ نے اہم اور مؤثر کردار ادا کیا۔
انہوں نے ماضی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب امریکی صدر بل کلنٹن بھارت گئے، تو بھارتی حکومت نے اسی نوعیت کا فالس فلیگ آپریشن کیا تھا، جس کے بعد پاکستان پر حملوں کا الزام عائد کیا گیا۔
شمشاد احمد خان نے مزید بتایا کہ بھارت نے اس کے بعد بھی اس طرح کے آپریشنز کا آغاز کیا، جس میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کرانا بھی شامل تھا، جس کے نتیجے میں پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ اس تمام صورتحال کے باوجود، بل کلنٹن پاکستان کے دورے پر آئے تھے، حالانکہ وہ بھارت میں چھ دن گزارنے کے بعد صرف پاکستان میں چھ گھنٹے رہے۔
شمشاد احمد خان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کی قربانیوں کے باوجود عالمی برادری نے ہمیشہ بھارت کے الزامات کو اہمیت دی۔
یہ بھی پڑھیں ٹینشن برقرار، بھارت پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، خواجہ آصف
یہ گفتگو اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ کی کوششیں عالمی سطح پر پاکستان کے موقف کو مضبوط کرنے کے لیے اہم ہیں، لیکن بھارت کی جانب سے مسلسل پروپیگنڈہ اور الزام تراشی کے باوجود پاکستان کی پوزیشن میں استحکام لانے کی ضرورت ہے۔





