پی ٹی آئی رہنما اور اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اے ٹی سی راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا کہ حکومت نے توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت بھی ملتوی کر دی ہے، جبکہ فرد جرم عائد کرنے کے لیے تمام ضروری دستاویزات فراہم کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانونی کارروائیاں جاری رہیں گی اور حکومت کے خلاف ان کا مؤقف مضبوط رہے گا۔
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے وزیر اعظم شہباز شریف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ شہباز شریف بزدل وزیراعظم ہیں جنہوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو بھارت کی جانب سے حملے کی صورت میں پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو واضح طور پر ظاہر کرنا چاہیے تھا، اور دوٹوک انداز میں بتانا چاہیے تھا کہ پاکستان زمینی اور فضائی سطح پر جواب دے گا۔
عمر ایوب نے مزید الزام عائد کیا کہ زرداری نے سندھ کے پانی کو فروخت کیا، جس کے نتیجے میں صوبے کے کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں افراتفری کی صورتحال ہے اور ایرانی پیٹرول کی اسمگلنگ سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے، جس کی مالیت پانچ سو ارب روپے سے زائد ہے۔
عمر ایوب نے بلوچستان کے حالات کو بھی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں صورتحال انتہائی خراب ہے۔





