سابق رہنما پی ٹی آئی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ پارٹی سے لات مار کر نکالا گیا، موجودہ قیادت نے بانی چیئرمین کے ساتھ زیادتی کی۔
تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے سابق مرکزی رہنماشیر افضل مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں پارٹی سے’’لات مار کر نکالا گیا‘‘ اور جس لات سے نکالا گیا ہےایک دن وہ لات خود ٹوٹ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے موجودہ قیادت نے پارٹی اور بانی چیئرمین کے ساتھ زیادتی کی ہے، اور اپنے ناقص فیصلوں سے تحریک انصاف کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں نہ احتجاج کی صلاحیت بچی ہے اور نہ کوئی سیاسی تحریک چلانے کی ہمت باقی رہی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ قیادت اپنے ذاتی مقاصد کے حصول میں اندھی ہوچکی ہے اور جو سلوک آج میرے ساتھ ہوا ہے، کل انہی کے ساتھ بھی ہوگا۔ انہوں نے شہباز گل کو سب سے بڑا’’جھوٹا اور مکار‘‘ قرار دیا اور کہا کہ شہباز گل اور عمران ریاض جیسے لوگ نظریے کی بات کرتے ہیں، حالانکہ ان کا اصل نظریہ ان کے ’’مونیٹائزڈ چینلز‘‘ ہیں۔
سابق رہنما کا کہنا تھا کہ اگر یہ لوگ واقعی نظریاتی ہیں تو اپنے چینلز کو ڈی مونیٹائزڈ کر کے دکھائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرا نام ای سی ایل سے ہٹوا کر میں خود بیرون ملک گیا تھا، کوئی خفیہ معاہدہ نہیں تھا۔ بانی چیئرمین کی رہائی کے بعد تمام حقائق سامنے آئیں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ قیادت نے بانی چیئرمین کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ میں پارٹی پر ٹیک اوور کرنے والا ہوں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’’پی ٹی آئی کو میری ضرورت ہے، میں اگر پارٹی میں ہوتا تو آج احتجاج کی قیادت کرتا، یہ لوگ صرف خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔‘‘
سابق رہنما نے کہا کہ انہیں وزارتیں آفر ہوئیں مگر انہوں نے انکار کر دیا، کیونکہ ان کا سیاسی سفر اصولوں پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں سیاسی موقع پرست ہوتا تو جھنڈا لگا کر اربوں روپے کما چکا ہوتا، مگر میں وہ مقام کبھی قبول نہیں کروں گا جو خان کے مخالفین کی صف میں ملتا ہے۔





