سرینگر ۔ پہلگام واقعے نے مودی سرکار کے مقبوضہ کشمیر میں امن اور سیاحت کے دعووں کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مودی نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے اور نئے کشمیر کا نعرہ لگا کر کشمیر کو خون میں نہلا دیا۔ دفاعی ماہرین نے کہا ہے کہ مودی کی پالیسیاں مقبوضہ وادی میں ناکام ہو چکی ہیں۔
مقبوضہ وادی کے لوگوں نے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہر بات کا الزام مسلمانوں پر عائد کیا جاتا ہے جو اب کشمیری برداشت نہیں کرے گا۔
کشمیری شہریوں کا کہنا ہے کہ ہمیں سیاحت نہیں چاہئے، نہ ہی ترقی چاہئے، آپ ہماری اذان پر حملہ کرتے ہیں اور ہمیں سیاحت کی دعوت دیتے ہیں۔ ایک کشمیری شہری نے کہا کہ کشمیر کچھ لوگوں کے لیے ایک انڈسٹری بن چکا ہے اور کشمیری صرف را میٹیریل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری کے دل میں کیا ہے، یہ کوئی سننے کو تیار نہیں۔
ایک کشمیری شہری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلگام میں اتنے لوگ مارے گئے، جس میں ہمارا بھائی عابد بھی شہید ہوا لیکن اس کا نام کسی نے نہیں لیا۔ کشمیری شہریوں نے کہا کہ پہلگام میں جنہوں نے حملہ کیا وہ مسلمان نہیں تھے۔ قرآن پاک میں لکھا ہے کہ ایک بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اسلام نے عورتوں، بچوں، بزرگوں اور نہتے افراد پر جنگ میں بھی حملہ کرنے سے منع کیا ہے۔ کشمیری شہریوں نے مزید کہا کہ کشمیر میں آج تک کبھی بھی سیاحوں پر حملہ نہیں ہوا تھا۔
کشمیری شہریوں نے کہا کہ ان سے روزگار کے وعدے کیے گئے مگر کچھ حاصل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اللہ کے بھروسے پر ہی چل رہا ہے، سرکار کہیں نظر نہیں آتی۔ ایک کشمیری شہری نے کہا کہ جمہوریت کا مطلب عوام کی حکومت ہے، لیکن کشمیر میں عوامی حکومت نظر نہیں آتی۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام واقعہ ، چین نے پاکستان کی حمایت کا اعلان کردیا ، بھارت کو تحمل اور مذاکرات کا مشورہ
کشمیری شہریوں نے پہلگام واقعے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کوئی ایسی ویڈیو نہیں دیکھی گئی جس میں یہ نظر آئے کہ کسی نے کسی کو مارا ہو۔ انہوں نے کہا کہ کسی ویڈیو میں یہ نہیں دیکھا گیا کہ حملہ آوروں نے مذہب پوچھا ہو۔ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہوا کہ حملہ آور کون تھے، بس انہوں نے فوج کی وردیاں پہن رکھی تھیں۔ کشمیری شہریوں نے سوال اٹھایا کہ یہ سب کچھ مسلمانوں سے کیوں جوڑا جا رہا ہے۔
کشمیری شہریوں نے کہا کہ اگر آج ہماری بہن کے ساتھ زیادتی ہوگی تو پھر بدلہ تو لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں دس لاکھ فوج ہے، یہاں تو ایک غلط پوسٹ کرنے پر بھی بندہ اٹھا لیا جاتا ہے، تو پھر سیاحوں پر حملے کو کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ کشمیری شہریوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وہاں دو ہزار سیاح موجود تھے تو ان کی سکیورٹی کہاں تھی۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمان اب سمجھ چکے ہیں کہ بھارت کے زیر سایہ کشمیر جلتا رہے گا۔ دفاعی ماہرین نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نہ سر محفوظ ہے، نہ چاردیواری، نہ زبان اور نہ ہی مذہب۔ دفاعی ماہرین نے کہا کہ کشمیر کا ایک ہی حل ہے اور وہ بھارت سے آزادی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام واقعے سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے؟ گرپتونت سنگھ پنوں نے سازشوں کی نئی کہانی بیان کردی





