بھارتی اپوزیشن جماعتوں کی مودی سرکار پر کڑی تنقید، پہلگام واقعے کے بعد انٹیلی جنس کی ناکامی پر سوالات

پہلگام فالس فلیگ: خود بھارت میں مودی سرکار پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری

سابق بھارتی بیورو کریٹ جواہر سرکار نے  پہلگام حملے کے حوالے سے مودی سرکار کا پروپیگنڈا بے نقاب کردیا۔

ذرائع کے مطابق جواہر سرکار نے پہلگام واقعہ میں آغاز سے اختتام تک مسلمانوں کے کردار کو نمایاں کیا۔ سابق بھارتی بیورو کریٹ نے کہا ہے کہ پہلگام جانے والے  سیاح مسلمانوں کی گاڑیوں میں آئے اور مسلمانوں کے ہی ہوٹلوں میں ٹھہرے،تمام سیاحوں نے مسلمانوں کے ہاتھ کا پکا کھانا کھایا اور سیر کیلئے مسلمان گائیڈ  کی مدد لی۔

انہوں نے مذید کہا کہ یہاں تک کہ حملے میں پہلی گولی کھانے والے سے لے کر زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے  والا بھی مسلمان تھا،ان تمام شواہد کے باوجود انتہا پسند بھارتی میڈیا تمام مسلمانوں کو دہشتگرد قرار دےرہا ہے۔

بھارتی دانشور اشوک سوین نے بھی پہلگام حملے پر مودی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ ہوئے ایکس پوسٹ پر لکھا کہ پہلگام حملے کے بعد  مودی سرکار کااب تک کا ماسٹر سٹروک یہ ہےکہ بھارت میں پاکستان کے وزیر دفاع کےایکس اکاؤنٹ پر پابندی لگادی گئی۔

اشوک سوین نے مزید لکھا کہ سات روز گزر جانے کے باوجود پہلگام میں 26 سیاحوں کو ہلاک کرنے والے ایک بھی دہشتگرد کا سراغ نہیں لگایا جاسکا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارت سمیت دنیا بھر سے مودی سرکار کے پہلگام فالس فلیگ حملے پر تنقید میں اضافہ  ہو رہا ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق بغیر شواہد اور مستند ثبوتوں کے پاکستان اور مسلمانوں پر حملے کا الزام مودی سرکار کی جگ ہنسائی کا سبب بن چکا ہے۔جواہر سرکار اور اشوک سوین  کے خیالات نے ثابت کیا ہے کہ مسلمان دہشتگرد نہیں ہے۔

Scroll to Top