بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی ’را‘ کے سابق سربراہ اے ایس دولت نے پہلگام واقعے کی ذمہ داری مودی حکومت پر عائد کر دی ہے،
ان کا کہنا ہے کہ کشمیر کی سکیورٹی مکمل طور پر دہلی کے کنٹرول میں ہے، اس لیے سکیورٹی ناکامی کی ذمہ داری بھی مرکز پر عائد ہوتی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے اے ایس دولت نے کہا کہ پہلگام واقعہ اس وجہ سے پیش آیا کیونکہ وہاں سکیورٹی موجود ہی نہیں تھی۔ انہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ موجودہ حالات میں کشیدگی ضرور ہے لیکن پاک بھارت جنگ کا کوئی امکان نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کہیں نہ کہیں، کبھی نہ کبھی بات چیت ضرور ہوگی، لیکن فی الحال ماحول تناو کا ہے، اس لیے مذاکرات میں کچھ وقت لگے گا۔
اے ایس دولت نے دونوں ممالک کو مشورہ دیا کہ وہ بیک چینل ڈپلومیسی کا راستہ اپنائیں۔ ان کے مطابق اگر براہ راست رابطے ممکن نہ ہوں تو سعودی عرب، ایران یا متحدہ عرب امارات جیسے ممالک اس کردار میں معاون ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں پاکستان کی اقوام متحدہ کو پہلگام واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کی پیشکش
نواز شریف اور نریندر مودی کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے سابق انٹیلیجنس چیف نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں مودی اور میاں صاحب کی آپس میں اچھی سمجھ بوجھ ہے، نواز شریف ہمیشہ بھارت سے بہتر تعلقات کے خواہاں رہے ہیں۔





