واشنگٹن: امریکا نے پاکستان اور بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ پہلگام حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کا ذمہ دارانہ اور پُرامن حل نکالیں تاکہ جنوبی ایشیا میں طویل المدتی امن اور علاقائی استحکام یقینی بنایا جا سکے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کے روز بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے دونوں فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے اقدامات کریں جو خطے میں مزید تناؤ کا باعث نہ بنیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا دونوں ملکوں کی حکومتوں سے مختلف سطح پر مسلسل رابطے میں ہے اور ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ موجودہ کشیدگی پُرامن طریقے سے ختم ہو۔
پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں ٹیمی بروس نے کہا کہ امریکا کی جانب سے یہ پیغام مسلسل دیا جا رہا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، اور دونوں فریقین کو چاہیئے کہ وہ ذمے داری کا مظاہرہ کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس حوالے سے مسلسل سفارتی چینلز کے ذریعے رابطہ رکھے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیں پہلگام واقعہ: ’را‘ کے سابق سربراہ نے مودی حکومت کو ذمہ دار قرار دے دیا
تاہم امریکی موقف میں بھارت کی حمایت بھی واضح نظر آئی۔ ٹیمی بروس نے کہا کہ جیسا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے وزیراعظم نریندر مودی سے گفتگو میں کہا تھا، امریکا دہشت گردی کے خلاف بھارت کے ساتھ کھڑا ہے، اور بھارتی وزیراعظم مودی کو امریکا کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
اگرچہ امریکی مداخلت کے بعد جنگ کے خدشات میں کمی آئی ہے، تاہم بھارتی قیادت کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ تاحال جاری ہے، جس پر خطے کے امن پسند حلقے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔





