بھارت کا دوغلا چہرہ سامنے آگیا ، 41 سال تک بھارت میں مقیم پاکستانی خاتون کو حکومتی احکامات کے تحت ملک بدر کر دیا گیا، خاتون اپنے اہلخانہ اور بیٹیوں کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئیں۔
بھارت میں 41 سال سے مقیم پاکستانی خاتون کو بھارتی حکام نے ملک بدر کر دیا، بھارت کے اس متنازع اقدام نے نہ صرف انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو جھٹلایا بلکہ بانیٔ پاکستان محمد علی جناح کے دو قومی نظریے کی ایک بار پھر تصدیق کر دی۔
ملک بدر ہونے والی خاتون بھارتی شہری سے شادی ہوئی تھیں اور ان کی دو بیٹیاں بھی بھارت میں مقیم ہیں، خاتون کا کہنا ہے کہ انہیں پہلگام حملے کے تناظر میں بغیر کسی جرم کے سزا دی گئی، انہوں نے کہا ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ پہلگام میں کیا ہوا، پھر ہمیں کیوں نکالا جا رہا ہے؟
اپنے اہلخانہ، بیٹیوں اور برسوں کے بنائے گئے گھر کو چھوڑتے وقت خاتون نے کہا کہ اب پاکستان میں میرا کوئی ٹھکانہ نہیں، لیکن بھارت میں بھی مجھے رہنے نہیں دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کا ویزے منسوخ کرنا قابل افسوس اقدام ہے، ترجمان دفتر خارجہ
خاتون کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت میں مسلمانوں پر مظالم، انتہاپسند عناصر کی جنونیت اور فرقہ وارانہ ذہنیت نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ جناح کا خدشہ درست تھا، یہ انسانیت کی نہیں، فرقہ واریت کی جیت ہے۔
اس متنازع فیصلے نے بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے بارے میں اہم سوالات اٹھا دیے۔





