اسرائیلی ناکہ بندی نے غزہ کو قحط میں دھکیل دیا، بھوک سے 57 فلسطینی دم توڑ گئے

اسرائیلی ناکہ بندی نے غزہ کو قحط میں دھکیل دیا، بھوک سے 57 فلسطینی دم توڑ گئے

اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جاری مکمل ناکہ بندی کے نتیجے میں شدید قحط پھیل گیا ہے جس کے باعث بھوک سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 57 ہو گئی ہے، غزہ کے ہسپتالوں میں غذائی قلت اور پانی کی کمی سے مزید اموات کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔

غزہ کی حکومت کے مطابق خوراک، پانی اور ادویات سے لدے درجنوں ٹرک سرحدوں پر کھڑے ہیں لیکن انہیں غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

اقوام متحدہ کے اہلکار اور انسانی حقوق کے کارکن اسرائیل سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ انسانی امداد کی فراہمی کو بلا رکاوٹ ممکن بنایا جائے لیکن عالمی سطح پر بڑھتے احتجاج کے باوجود اسرائیل نے اپنی ناکہ بندی ختم کرنے سے انکاری ہے۔

اقوام متحدہ کی مشرقِ قریب میں فلسطینی مہاجرین کی امداد اور بحالی کی (ایجنسی یو این آر ڈبلیو اے) کے مطابق ان کے گوداموں میں آٹا اور خوراک کے پیکٹ ختم ہو چکے ہیں جبکہ 80 فیصد شہری مکمل طور پر امدادی خوراک پر انحصار کر رہے ہیں، بازاروں میں اشیائے خور و نوش کی شدید قلت اور قیمتوں میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے عام لوگوں کی رسائی بھی ممکن نہیں رہی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کا ایران پر دباؤ، میزائل پروگرام ترک کرنے، یورینیم افزودگی روکنے اور معائنوں کی مکمل اجازت کا مطالبہ

یونیسیف کے مطابق2024 کے آغاز سے اب تک 9 ہزار سے زائد فلسطینی بچوں کو شدید غذائی قلت کے باعث ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ ویکسینز تیزی سے ختم ہو رہی ہیں اور امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں جن میں سب سے زیادہ خطرناک شدید پانی دار اسہال ہے جو اب غزہ میں ریکارڈ ہونے والی ہر چوتھی بیماری بن چکی ہے۔

Scroll to Top