بھارت سفارتی محاذ پر تنہائی کا شکار، روس نے بھی پاکستان سے بات چیت کا مشورہ دے دیا

پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت کو عالمی سطح پر شدید سفارتی دباؤ اور تنہائی کا سامنا ہے، بھارت کی جانب سے واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف عالمی حمایت حاصل کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔

بھارت سفارتی محاذ پر مزید تنہائی کا شکار ہو گیا،  روس نے بھی بھارت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان سے بات چیت کرے تاکہ کشیدگی کم ہو اور خطے میں استحکام آئے۔

بین الاقوامی برادری، خصوصاً امریکا، یورپی یونین اور روس نے بھارت کے جارحانہ مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے، روسی وزیر خارجہ نے نئی دہلی کو واضح پیغام دیا ہے کہ تمام تصفیہ طلب معاملات کو مذاکرات کے ذریعے سلجھایا جائے۔

سوئٹزرلینڈ نے بھی پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات میں پاکستان کو مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، امریکا اور یورپی یونین پہلے ہی بھارت کو یہی مشورہ دے چکے ہیں کہ کشیدگی میں اضافے کی بجائے پرامن حل کی طرف بڑھا جائے۔

بین الاقوامی امور کی ماہر تنوی مدن نے روس کی مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ جارحیت سے مسائل حل نہیں ہوتے، بھارت کو چاہیے کہ وہ پاکستان سے تنازعات کا حل سفارت کاری کے ذریعے تلاش کرے۔

یہ بھی پڑھیں: قومی سلامتی پر سیاسی رہنماؤں کی بریفنگ، پی ٹی آئی کا عمران خان کو شامل کرنے کا مطالبہ

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا، یورپی یونین اور اب روس کی جانب سے یکساں مؤقف بھارت کی بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی کی علامت ہے۔

دفاعی ماہرین نے مزید کہا کہ اگر بھارت نے کسی بھی قسم کی جارحیت کی کوشش کی تو پاکستان کی طرف سے اسے مؤثر اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ بالآخر تمام تنازعات کا حل مذاکرات کی میز پر ہی ممکن ہوتا ہے۔

Scroll to Top