جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے مودی حکومت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دریا صدیوں سے بہتے آ رہے ہیں اور ان کا رخ موڑنا یا پانی روکنا محض ایک خام خیالی ہے۔
جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ پانی روکنے کی دھمکیاں غیر حقیقی ہیں کیونکہ یہ دریا صدیوں سے بہتے آ رہے ہیں اور ان کا رخ موڑنا آسان نہیں۔
انہوں نے موجودہ سیاسی بیانیے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک مسلمان ہوں اس ملک کا باشندہ ہوں اور جو فضا آج کل یہاں پیدا کی جا رہی ہے، وہ ملک کے لیے نقصان دہ ہے، ۔ حکومت کو چاہیے کہ نفرت کے بجائے محبت اور ہم آہنگی کا پیغام دے۔
یہ بھی پڑھیں: رافیل پر لٹکے لیموں اور مرچیں، اجے رائے کا حکومت پر طنزیہ وار
ارشد مدنی نے زور دیا کہ بین الاقوامی معاہدوں کا احترام، خطے کے امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کے بجائے بات چیت، تعاون اور اعتماد سازی کے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ ملک میں ترقی اور امن کی فضا قائم رہ سکے۔





