وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے جنگ کا خطرہ اب بھی موجود ہے، لیکن رافیل طیارے اڑانے کے لیے صرف طیارہ نہیں بلکہ دل گردہ بھی درکار ہوتا ہے۔ یہ بات انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہی۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ بھارتی پائلٹ تو چائے پی کر واپس چلے جاتے ہیں، جبکہ پاک بھارت کشیدگی کا پائیدار حل پہلگام واقعے کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات میں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سلامتی کونسل کے آئندہ اجلاس میں جعفر ایکسپریس حملے کے شواہد بھی پیش کرے گا۔
خواجہ آصف نے قومی سیاست سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اجلاس کا مقصد تمام سیاسی جماعتوں سے تجاویز لینا تھا، اور اس عمل کو بانی پی ٹی آئی کی شرکت سے مشروط کرنا ایک بڑی کوتاہ اندیشی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ حب الوطنی کو کسی شخصیت سے منسلک کرنا درست نہیں، کیونکہ قومی مفادات اور سلامتی شخصیات سے بالاتر ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ پلواما واقعے کے وقت ان کی قیادت جیل میں تھی، جو بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر قید کی گئی۔ اس وقت بھی جیلوں سے باہر موجود قیادت نے قومی بریفنگ میں شرکت کی، لیکن بانی پی ٹی آئی نے ان کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نے کبھی قومی اتحاد میں رخنہ نہیں ڈالا، اور ہمیشہ پاکستان کی سلامتی اور یکجہتی کو اولین ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے لیڈر آئے اور دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر قومیں باقی رہتی ہیں، اور پاکستان ان شاء اللہ تاقیامت قائم و دائم رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں :پاکستان کی فوج کا بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ کا منہ توڑ جواب، بھارتی بندوقیں خاموش کرا دیں
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ وطن عزیز کی سلامتی ہر شخصیت اور قیادت سے کہیں زیادہ اہم ہے، اور ہمیں بطور قوم اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔





