بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ قوم اور افواجِ پاکستان بھارت کیخلاف ایک صفحے پر متحد ، مگر نواز شریف کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اور مودی ’’ایک پیج‘‘ پر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت بیرسٹر محمد علی سیف نے مسلم لیگ (ن) اور سابق وزیراعظم نواز شریف پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر تنقید کرنے والی حکومت پہلے اپنے جماعتی صدر سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف دوٹوک مؤقف دلوا کر دکھائے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے سوال اٹھایا کہ ’’نواز شریف وضاحت کریں کہ مودی ان کی کمزوری ہے یا مجبوری؟‘‘ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’جاتی امرا میں دعوتیں کھانے والے کشمیریوں کے قاتل مودی کے خلاف بولنے سے نواز شریف آج بھی کترا رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’نواز شریف اور ان کے ایجنٹ، مودی کے خلاف لب کشائی نہ کر کے قومی اتحاد اور افواج پاکستان کے حوصلے پست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن پی ٹی آئی اور پاکستانی فوج مودی کے خلاف واضح اور مشترکہ مؤقف پر قائم ہیں۔‘‘
بیرسٹر سیف نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ محض سیاسی بیانات تک محدود نہ رہے، بلکہ بھارت کے خلاف ٹھوس قومی بیانیہ اپنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی قومی سلامتی عزیز ہے تو حکومت کو پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر بھارت مخالف مؤقف کو مضبوط بنانا ہوگا۔





