نیویارک: پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ بھارتی جارحیت عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور سلامتی کونسل کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔
پاکستان کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرہ اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے بھارت کے جارحانہ عزائم اور خطے میں امن کو لاحق خطرات سے کونسل کو آگاہ کیا۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ گزشتہ سات دہائیوں سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے اور ابھی تک اس کا حل نہیں نکلا۔ انہوں نے بھارتی اشتعال انگیز اقدامات کو نہ صرف پاکستان بلکہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔
پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی تنازع کا خواہاں نہیں ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور سالمیت کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے بھارت کی طرف سے پہلگام واقعے میں پاکستان کو ملوث کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس واقعے کی شفاف، آزاد اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا خیرمقدم کرتا ہے اور اس میں مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔
عاصم افتخار نے مزید کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست ہے اور اس نے اس جنگ میں 90 ہزار جانوں کی قربانی دی ہے۔ انہوں نے بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ اس کے نتیجے میں خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : نیویارک: پاکستان کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ختم
پاکستان کے مستقل مندوب نے یہ بھی کہا کہ پاکستان خطے میں باہمی عزت، سالمیت اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کا خواہاں ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کی جارحیت اور ڈس انفارمیشن مہم کا سخت نوٹس لے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے تاکہ جنوبی ایشیا میں امن قائم ہو سکے۔





