امریکا نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کر دیں

واشنگٹن: امریکا نے ایران کے ساتھ جاری جوہری معاہدے کے مذاکرات کے دوران تہران پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق تازہ پابندیاں تین ایرانی شہریوں اور ایک ایرانی ادارے پر عائد کی گئی ہیں جن کا تعلق ایران کی “آرگنائزیشن آف ڈیفینسو انوویشن اینڈ ریسرچ” (SPND) سے بتایا گیا ہے۔

ان پابندیوں کے تحت متاثرہ افراد اور ادارے کے امریکا میں موجود تمام اثاثے منجمد کیے جائیں گے، جبکہ ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے مالی یا تجارتی تعلقات قائم کرنے پر بھی پابندی ہو گی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو مسلسل توسیع دے رہا ہے اور ایسے تحقیقی منصوبوں پر کام کر رہا ہے جو جوہری ہتھیاروں اور ان کے نظامِ ترسیل (ڈلیوری سسٹمز) سے منسلک ہو سکتے ہیں۔

یہ پابندیاں ایسے وقت میں عائد کی گئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کا چوتھا دور گزشتہ روز مکمل ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بھارتی جارحیت پر امریکہ کے بعد چین کا بھی ردعمل، خطے میں کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار

یہ مذاکرات گزشتہ ماہ شروع ہوئے تھے، جن کا مقصد ایک نیا معاہدہ طے کرنا ہے تاکہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے۔

ایران کی جانب سے ہمیشہ اس بات کی تردید کی جاتی رہی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم مغربی ممالک کی جانب سے اس پر شبہات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

Scroll to Top