پاکستان کے ہاتھوں حالیہ سفارتی و دفاعی ناکامیوں کے بعد بھارت خطے میں اپنی پوزیشن کو بہتر بنانے کے بجائے سفارتی آداب سے بھی غفلت برتنے لگا ہے۔ تازہ ترین واقعے میں بھارت نے ایک اہم دفاعی بریفنگ میں چین اور ترکیے جیسے خطے کے نمایاں ممالک کو مدعو نہ کر کے سفارتی حلقوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نئی دہلی میں منعقد ہونے والی ڈیفنس اتاشی کی ایک اہم بریفنگ میں مخصوص اور محدود ممالک کو دعوت دی گئی، جبکہ چین، ترکیہ اور چند دیگر اہم علاقائی ممالک کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات بھارت کی سفارتی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت خطے میں بڑھتی ہوئی تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
چین اور ترکیے جیسے بااثر ممالک کو نظر انداز کرنا ایک ناپختہ سفارتی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے، جو نہ صرف بھارت کے عالمی تاثر کو متاثر کرے گا بلکہ خطے میں ہم آہنگی کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بھارت نے پانی روکا تو پاکستان کے پاس کئی آپشنز موجود ہیں، عطار تارڑ
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے سفارتی سطح پر مزید ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا، تو اسے بین الاقوامی فورمز پر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جنوبی ایشیائی خطہ پہلے ہی حساس سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال سے گزر رہا ہے۔





