مودی حکومت کی جانب سے ایک اور پاکستانی سیاسی رہنما کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ نشانہ بنالیا گیا۔سینیٹر شیری رحمان کا ٹوئٹر (اب ’’ایکس‘‘) اکاؤنٹ بھارت میں بند کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اس اقدام پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ بھارت میں اظہارِ رائے پر قدغنیں نئی آہنی دیوار کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ معقول اور حقیقت پر مبنی آوازوں کو دبانا ہندوتوا ری پبلک کی تنگ نظری کو ظاہر کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر پابندیاں دراصل سچ بولنے والوں کو خاموش کرانے کی ایک منظم کوشش ہیں۔
شیری رحمان نے بھارتی حکومت کے اس اقدام کو پہلگام واقعے کے حقائق چھپانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی طرف سے کی جانے والی بلاجواز جارحیت کو چھپانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے لیکن بھارت سچائی سے نظریں نہیں چرا سکتا
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے ایک بار پھر کسی مہم جوئی کی کوشش کی تو پاکستان کی جانب سے مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
شیری رحمان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت میں سچ بولنے والوں کی آواز دبانے کے اس رجحان کی عالمی سطح پر مذمت کی جائے۔
یاد رہے کہ بھارت اس سے قبل بھی متعدد پاکستانی اداکاروں، کھلاڑیوں اور سیاسی شخصیات کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر چکا ہے۔ ماہرین اس طرز عمل کو اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیتے ہیں اور بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کے خطرناک رجحان کی نشان دہی کرتے ہیں۔





