غزہ میں فلسطینیوں کی حالت ناقابل بیان ہے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کی موجودہ صورتحال کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ایکس پوسٹ میں لکھا ہے کہ غزہ میں کیفیت ظلم و بربریت کی تمام حدوں کو پار کر چکی ہے اور انسانی اقدار کی کھلی خلاف ورزی بن چکی ہے۔

انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ محصور شہریوں کو بھوک اور قحط کے ذریعے نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کا مذاق اُڑانے کے مترادف ہے، انسانی امداد پر عائد پابندیوں کو فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے تاکہ بے گناہ عوام کو بنیادی ضروریات زندگی تک رسائی حاصل ہو سکے۔

سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے مزید کہا ہے کہ یہ وقت ہے کہ عالمی برادری اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرے اور عملی اقدامات کرے تاکہ انسانی المیے کو روکا جا سکے اور فلسطینیوں کو انصاف فراہم ہو۔

اسرائیلی افواج کی تازہ بمباری میں غزہ کے مختلف علاقوں بالخصوص شمالی غزہ میں 70 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔

 شمالی علاقے جبالیا میں ایک حملے کے بعد ملبے سے چار کمسن بچوں کی لاشیں نکالی گئیں جس نے انسانی المیے کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں کا معاملہ عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہونے والے عرب لیگ کے اجلاس میں مرکزی موضوع رہا جہاں عرب رہنماؤں نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔

ریڈ کریسنٹ نے ایک بار پھر اسرائیل سے غزہ کے ساتھ سرحدی راستے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ انسانی امداد کی فراہمی ممکن ہو سکے، ادارے نے خبردار کیا ہے کہ غزہ بھوک اور درد کی حالت میں ہے اور فوری امداد کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ میں امن کی راہ ہموار کرنے کیلئے جنگ بندی ناگزیر ہے، سعودی وزیر خارجہ

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے اب تک 52 ہزار 272 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ  20 673 زخمی ہو چکے ہیں۔

Scroll to Top