کم عمری کی شادی پر پابندی کا بل واپس نہ لیا گیا تو سڑکوں پر آئیں گے، مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کم عمری کی شادی پر پابندی سے متعلق قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے بل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اگر حکومت نے بل واپس نہ لیا تو وہ سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکل سکتے ہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ وقت ملک میں ملی یکجہتی اور اتحاد کا ہے، لیکن حکومت ایسے وقت میں متنازع قانون سازی کر رہی ہے جو قوم کو تقسیم کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کی شادی پر پابندی کا بل لایا گیا ہے، اور اس کی ٹائمنگ انتہائی نامناسب ہے۔ اگر میں اس بل کی مخالفت کروں تو لوگ سوال اٹھائیں گے، مگر قومی یکجہتی کا تقاضا یہی ہے کہ ایسے معاملات کو چھیڑا نہ جائے۔

مولانا فضل الرحمان نے سپیکر قومی اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ اس بل کے خلاف رولنگ دی جائے اور اسے فوری طور پر اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوا دیا جائے۔ اگر اسلامی نظریاتی کونسل کو اس بل پر اعتراض نہیں ہوگا تو مجھے بھی اعتراض نہیں ہوگا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی قانون سازی سے ہمیں سڑکوں پر آنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ بہتر ہوگا کہ بل کو فی الفور مؤخر کر کے علماء و مشائخ سے مشاورت کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں : صدر مملکت نے سینیٹ کا اجلاس 22 اپریل کو طلب کرلیا

مولانا فضل الرحمان نے بھارتی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اور پارلیمان متفق ہے کہ بھارت نے جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کو جواز بنا کر پاکستان پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، جبکہ ہمارے مذہبی مراکز اور مساجد کو نشانہ بنایا گیا۔

Scroll to Top