اسلام آباد: اگر آپ اپنے گھر یا کاروبار کے لیے چھوٹے یا درمیانے درجے کے سولر یونٹ خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ بہترین وقت ہے، کیونکہ حکومت کی جانب سے بائی بیک ریٹ (واپسی نرخ) میں کمی کے بعد قیمتوں میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ نظرثانی شدہ نرخوں کے تحت ابتدائی سطح کا سولر سسٹم تقریباً 1,50,000 روپے سے شروع ہو کر 1,70,000 روپے تک جا پہنچتا ہے۔
سولر توانائی کو اپنانے میں ریکارڈ توڑ اضافے کے بعد، پاکستان کا سولر سیکٹر اب معمولی سست روی کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔ اس سست روی کو حکومت کے حالیہ فیصلے سے جوڑا جا رہا ہے، جس میں نیٹ میٹرنگ کے تحت بجلی کی واپسی قیمت 27 روپے سے کم کر کے 10 روپے فی یونٹ کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ان صارفین کے لیے مالی منافع میں کمی کا سبب بن رہا ہے جو اپنی زائد بجلی قومی گرڈ کو فروخت کرتے ہیں۔
تاہم، نئی پالیسیوں کا اطلاق موجودہ نیٹ میٹرنگ صارفین پر اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک کہ ان کے موجودہ لائسنس یا معاہدے کی مدت پوری نہیں ہو جاتی۔ اس سے پرانے صارفین کو عارضی طور پر کچھ ریلیف حاصل ہوگا۔
ون کے وی سولر سسٹم کی قیمت اور اجزاء
| اجزاء |
قیمت (روپے) |
| 550 واٹ گریڈ ٹائر 1 سولر پینل (N-type) |
45,000 |
| Inverex Veryon 1.2kW سولر انورٹر |
75,000 |
| انسٹالیشن چارجز |
4,500 |
| سٹرکچر L 2 C-Type |
10,000 |
| پروٹیکشن کمپلیٹ DP باکس (SPDS، AC/DC بریکرز، سیفٹی بریکرز، کیبل ٹائیز، پائپ ڈکٹ، تھمبلز وغیرہ) |
9,000 |
| DC کیبلز (کویل) |
5,200 |
| بیٹری |
28,000 |
| کل قیمت |
175,000-180,000 |
تین کے وی سولر سسٹم کی قیمتیں اور اجزاء (2025)
| اجزاء |
قیمت (روپے) |
| سولر پینلز |
150,000 |
| انورٹر |
150,000 |
| سٹرکچر |
25,000 |
| بیٹریز |
100,000 |
| وائرنگ اور لوازمات |
15,000 |
| انسٹالیشن |
25,000 |
| کل قیمت |
450,000-460,000 |
پانچ کے وی سولر سسٹم کی قیمتیں اور اجزاء (2025)
| اجزاء | قیمت (روپے) |
|---|---|
| سولر پینلز | 170,000 |
| انورٹر | 145,000 |
| سٹرکچر | 40,000 |
| بیٹریز | 100,000 |
| وائرنگ اور لوازمات | 25,000 |
| انسٹالیشن | 35,000 |
| کل قیمت | 500,000-550,000 |
تبدیلی کے باوجود، پاکستان کی مجموعی سولر توانائی کی استعداد سال بہ سال مضبوط ترقی دکھا رہی ہے، جو 2021 میں صرف 321 میگاواٹ تھی اور دسمبر 2024 تک 4,124 میگاواٹ تک جا پہنچی ہے۔ ملک اب بھی اپنی طویل المدتی قابلِ تجدید توانائی کی حکمتِ عملی پر قائم ہے، جس کا ہدف ہے کہ ایک تہائی بجلی صاف (گرین) ذرائع سے پیدا کی جائے۔
اگرچہ حالیہ پالیسی تبدیلی نے اس رفتار کو کچھ حد تک سست کر دیا ہے، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ سولر ٹیکنالوجی کی گرتی ہوئی قیمتیں اور عوام میں توانائی کے متعلق بڑھتی ہوئی آگاہی اس شعبے کی ترقی کو برقرار رکھیں گی، اگرچہ اب یہ ترقی شاید کچھ معتدل رفتار سے ہو۔





