چالیس سال کی محنت رنگ لے آئی: انڈونیشیا کا بزرگ جوڑا صفائی کا کام کر کے حج کی سعادت حاصل کرنے سعودی عرب پہنچ گیا۔
تفصیلات کے مطابق انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والا ایک بزرگ جوڑا، جو گزشتہ 40 برسوں سے صفائی کا کام کر کے حج کے لیے رقم جمع کر رہا تھا، بالآخر رواں سال حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب پہنچ گیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بزرگ شہری لیگیمین اور ان کی اہلیہ انڈونیشیا میں صفائی ستھرائی کا کام کرتے رہے۔ دونوں میاں بیوی نے 1986 میں حج کرنے کا خواب دیکھا اور اسی وقت سے اس خواب کی تعبیر کے لیے محنت کا سفر شروع کیا۔
سعودی پریس ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے لیگیمین نے جذباتی انداز میں کہا’’مجھے یقین نہیں آ رہا کہ میں اپنی آنکھوں سے خانہ کعبہ کو دیکھ سکوں گا، یہ خواب اب حقیقت بن گیا ہے۔‘‘انہوں نے بتایا کہ مشکل حالات، کم آمدنی اور روزمرہ مسائل کے باوجود وہ اور ان کی اہلیہ مسلسل بچت کرتے رہے یہاں تک کہ وہ اتنے پیسے جمع کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ حج کے لیے نام درج کروا سکیں۔
لیگیمین نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا’’سب سے پہلے میں اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں، پھر ان تمام افراد اور سعودی حکومت کا جنہوں نے ‘مکہ روٹ انیشی ایٹو’ جیسے اقدامات کے ذریعے ہمیں آسانی فراہم کی۔ یہ سب میری سوچ سے بھی بڑھ کر ہے۔‘‘اس سچے جذبے اور خلوص نیت سے بھرپور جوڑے کی کہانی نہ صرف حج کی روحانیت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ یہ بھی سکھاتی ہے کہ خلوص، محنت اور صبر کے ساتھ کوئی بھی خواب ناممکن نہیں۔





