پشاور ہائیکورٹ نے رومان شاہ ایڈووکیٹ کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے پر وفاقی حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیا۔
پشاور ہائیکورٹ میں پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے کے خلاف رومان شاہ ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس عبدالفیاض پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران عدالت نے وفاقی حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا، جسٹس سید ارشد علی نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کے خلاف ایف آئی آر کیوں درج کی گئی ہے؟
درخواست گزار رومان شاہ ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے لیکن انہیں معلوم ہی نہیں کہ یہ قانون کیا ہے۔
جسٹس عبدالفیاض نے ریمارکس دیے کہ پیکا ایکٹ تو ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں آتا ہے پھر ایس ایچ او نے کیسے ایف آئی آر درج کی؟ جس پر عدالت نے اس نکتے پر بھی وضاحت طلب کی۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے عبوری ضمانت حاصل کر رکھی ہے، دورانِ سماعت اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست گزار کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے آرمی چیف کے خلاف پوسٹ کی گئی تھی۔
جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ آپ کیوں ایسی چیزیں شیئر کرتے ہیں جس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں؟ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ ان کا نہیں ہے اور آج کل فیک اکاؤنٹس بنا کر تصاویر لگا دی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جھلسا دینے والی گرمی کا آخری روز، خیبرپختونخوا میں بادل برسنے کو تیار
درخواست گزار نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ انہیں مذکورہ پوسٹ کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔
عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد وفاقی حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب طلب کر لیا۔





