یورپی تجاویز غیر حقیقی، ان پر اصرار معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ہے، ایران

یورپی تجاویز غیر حقیقی، ان پر اصرار معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ہے، ایران

ایران نے یورپی طاقتوں کی جانب سے پیش کی گئی نئی جوہری تجاویز کو غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان پر اصرار سے معاہدہ ممکن نہیں ہوگا۔

جنیوا میں مذاکرات کے دوران ایک سینئر ایرانی اہلکار نے کہا کہ یورپی پیشکشیں حقیقت سے کوسوں دور ہیں اور ایران ان کا تفصیلی جائزہ تہران میں لے کر آئندہ اجلاس میں جواب دے گا۔

ایرانی اہلکار نے کہا کہ صفر افزودگی کا مطالبہ قطعی ناقابل قبول ہے اور ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں خصوصاً میزائل پروگرام پر کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔

ایرانی اہکار کا کہنا تھا کہ یورپی طاقتوں کا موجودہ موقف ایران کو معاہدے کے قریب لانے کے بجائے مزید دور کر رہا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق ایرانی حکام نے ممکنہ جوہری لیک اور اسرائیلی حملوں کے خدشے کے پیش نظر ہنگامی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔

ایرانی نائب وزیر صحت علی جعفریان نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جوہری تنصیبات خطرے میں ہیں اور اگر جوہری ری ایکٹرز پر حملہ ہوا تو فوری طبی امداد فراہم کی جائے گی۔

علی جعفریان کے مطابق اسرائیل نے اب تک غیر روایتی ہتھیار استعمال نہیں کیے تاہم حفاظتی اقدامات کے تحت کرمشاہ کا مرکزی ہسپتال مکمل طور پر خالی کرایا جا چکا ہے جبکہ تین دیگر ہسپتال حملوں کی زد میں آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نشانہ بننے والی تمام تنصیبات شہری نوعیت کی ہیں جو کہ واضح طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

ایرانی نائب وزیر صحت نے عالمی اداروں کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو ان سے زیادہ امید نہیں، کیونکہ وہ غزہ جیسے سنگین انسانی المیے میں بھی ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی سپریم لیڈر کا جانشین کون ہوگا؟ تین نام سامنے آ گئے

جعفریان نے مزید کہا کہ گزشتہ 8 روز کے دوران اسرائیلی حملوں میں 430 ایرانی شہری شہید اور 3,500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

Scroll to Top