عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز نے کہا ہے کہ اے این پی ہمیشہ بدامنی کے خلاف کھڑی رہی ہے، اور آج بھی وہی موقف ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے نثار باز نے کہاکہ پنجاب میں کیوں امن ہے اور خیبرپختونخوا میں بدامنی کیوں ہے؟ ہم نہیں چاہتے کہ پنجاب میں بدامنی ہو، مگر ہم ان سب باتوں کو سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2013 کے انتخابات میں اے این پی نے دہشت گردی اور دھماکوں کے سائے میں الیکشن لڑا، لیکن جمہوری عمل سے پیچھے نہیں ہٹی۔انہوں نےکہا کہ جو بھی سیاسی انجینئرنگ کرتے ہیںہم ان کے خلاف ہیں۔ ہم غیر پارلیمانی اور غیر جمہوری کوئی بات نہیں کرتے۔
نثار باز نے باجوڑ کے بلدیاتی اداروں میں 24 کروڑ روپے کی کرپشن، اور کوہستان میں 40 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کا ذکر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ حکومت اور اینٹی کرپشن ادارے کیا کر رہے ہیں؟ اگر کرپشن کی روک تھام نہیں کر سکتے تو تنخواہیں کیوں لیتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے پیسے ضائع نہ کیے جائیں، انہیں عوام پر خرچ کیا جائے۔
سرکاری ملازمین پر شیلنگ اور تشدد کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہم سرکاری ملازمین پر طاقت کے استعمال کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
نثار باز نے مزید کہا، تیرہ سالوں سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے مگر آج تک این ایف سی ایوارڈ کیوں نہیں دیا گیا؟ قبائلی اضلاع کے عوام آپ کی سیاسی لڑائی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ سترہ سال سے باجوڑ اور مہمند کی سڑکیں نہیں بنائی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں : میرانشاہ، انتظامیہ کےمیٹرک امتحانی مراکز پرچھاپے،جعلی امیدواروں کو حراست میں لے لیا
بین الاقوامی امور پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے نثار باز نے اسرائیل کے ایران پر حملے کی شدید مذمت کی اور کہاکہ اسرائیل امریکہ کی ناجائز اولاد ہے۔ ہم کسی بھی جنگ کی حمایت نہیں کرتے،ٹرمپ جیسے غیر سنجیدہ شخص کو امن ایوارڈ دینے کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔





