باجوڑ کے گریجویٹ طالب علم کی خود ساختہ کامیابی نے سب کو حیران کر دیا

محمد عباس

باجوڑ: ملاکنڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے والے ساجد خان نے سرکاری نوکری کے انتظار میں وقت ضائع کرنے کے بجائے ریڑھی پر کاروبار شروع کر کے محنت، خودداری اور عزم کی ایک قابلِ تقلید مثال قائم کر دی ہے۔

ساجد خان نہ صرف محنت کرتے ہیں بلکہ مطالعہ کو بھی اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ فارغ وقت میں کتابیں پڑھتے ہیں، اور اکثر اوقات واپسی کے سفر میں بھی کتاب ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔

پختون ڈیجیٹل سے گفتگو میں ساجد خان کا کہنا تھا کہ دوسرے ممالک اگر ہم دیکھیں تو وہ مستحکم ہیں، لیکن پاکستان میں حالات اس طرح کے نہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں۔

یہ بھی پڑھیں : نگران حکومت میں 32 ارب روپے کی کرپشن ہوئی، نیب تحقیقات کرے، لائق خان

انہوں نے کہا کہ اس کام میں کوئی شرم کی بات نہیں، محنت کرنے والے کو معاشرے میں عزت ملتی ہے۔ بہت سے لوگ میری حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور داد دیتے ہیں۔

ساجد خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ معاشی طور پر خودمختار بن سکیں اور ملک کی ترقی میں کردار ادا کر سکیں۔

Scroll to Top