دنیا کے طاقتور ترین ڈیجیٹل کیمرے نے کائنات کی پہلی تصاویر جاری کر دی ہیں، جن میں رنگین نیبیولا، چمکتی کہکشائیں اور ستاروں کے جھرمٹ کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ حیرت انگیز تصاویر ویرا سی رُوبن آبزرویٹری سے حاصل کی گئی ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ جدید مشاہدہ گاہ کائنات کے سربستہ رازوں کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
مشاہدے کی مسلسل بنیاد پر وہ امید رکھتے ہیں کہ مستقبل میں کائنات کی ریوائنڈ ایبل ویڈیو بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے، جس سے ماضی کی کہکشانی حرکات کا مشاہدہ ممکن ہو سکے گا۔
آبزرویٹری میں نصب 3200 میگا پکسل کیمرے کو دنیا کا سب سے طاقتور ڈیجیٹل کیمرا قرار دیا جا رہا ہے، جو اپنی زبردست تفصیل کی صلاحیت کے باعث چاند پر رکھی ایک گالف بال کو بھی دکھا سکتا ہے۔ یہ طاقت موجودہ جدید آئی فون کیمروں سے تقریباً 70 گنا زیادہ ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق اس کیمرے کی مدد سے سیارچوں، بلیک ہولز، پراسرار ڈارک میٹر اور دیگر فلکیاتی اجسام کے بارے میں گہرائی سے تحقیق ممکن ہو سکے گی۔
ابتدائی تصاویر کا مقصد کیمرے کی تفصیل کارکردگی اور مشاہداتی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا تھا، جو خلائی سائنس کے میدان میں ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔





