پاکستان کی کان کنی کی صنعت نے ایک تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے عالمی سطح پر گولڈ لیول الائنس فار واٹر سٹیورڈشپ سرٹیفیکیشن حاصل کر لی ہے۔
یہ اعزاز سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کو تھر میں پانی کے مؤثر اور پائیدار استعمال پر دیا گیا ہے جو دنیا بھر میں کسی بھی کان کنی کمپنی کو حاصل ہونے والا پہلا گولڈ سرٹیفیکیشن ہے۔
یہ تاریخی کامیابی سپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل(ایس آئی ایف سی) کی پالیسیوں کا ثمر ہے جن کی بدولت پاکستان کا کان کنی کا شعبہ ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہے۔
تھر کول منصوبے میں واٹر مینجمنٹ کے جدید ماڈل، زراعت کے فروغ، مقامی آبادی کے لیے صفائی ستھرائی کے بنیادی ڈھانچے کی فراہمی اور 23 جدید پلانٹس سے پانی کی فراہمی جیسے اقدامات اس کامیابی کی بنیاد بنے۔
2009 میں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے اشتراک سے قائم ہونے والا الائنس فار واٹر اسٹیورڈشپ ایک بین الاقوامی معیار ہے جو پائیدار اور ذمہ دار آبی استعمال کو تسلیم کرتا ہے
الائنس فار واٹر سٹیورڈ شپ کا فریم ورک اقوام متحدہ کے ماحولیاتی اہداف سے ہم آہنگ ہے اور اس سرٹیفیکیشن کا مطلب ہے کہ سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی دنیا کے ماحولیاتی معیار پر پورا اترتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شفاف، باصلاحیت اور خدمت گزار بیوروکریسی ریاستی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے، فیلڈ مارشل
ایس آئی ایف سی کی مؤثر پالیسیوں کی بدولت پاکستان کے کان کنی کے شعبے کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، اور یہ کامیابی ملک کی معیشت، ماحولیات اور پائیداری کے شعبوں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔





