پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں آج ایک سیکیورٹی فورسز کے قافلے کو دہشتگرد حملے کا نشانہ بنایا گیاجس کے نتیجے میں 13 جوان شہید جبکہ تین بے گناہ شہریجن میں دو بچے اور ایک خاتون شامل ہیںشدید زخمی ہو گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ حملہ بھارت کی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد گروہ “فتنہ الخوارج” کی جانب سے کیا گیا جو پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
حملے میں ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے سیکیورٹی فورسز کے قافلے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جسے قافلے کی اگلی ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنایا۔ تاہم دہشتگردوں نے اپنی ناکامی کے بعد ایک اور دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی قافلے کی ایک گاڑی سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔
حملے میں شہید ہونے والوں صوبیدار زاہد اقبال،حوالدار سہراب خان ،حوالدار میاں یوسف،نائیک خطاب شاہ،لانس نائیک اسماعیل ،سپاہی روحیل،سپاہی محمد رمضان،سپاہی نواب ،سپاہی زبیر احمد،سپاہی محمد سخی،سپاہی ہاشم عباسی،سپاہی مدثر اعجاز اورسپاہی منظر علی شامل ہیں ۔
دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں فوری طور پر کلیئرنس آپریشن شروع کیا، جس کے دوران ہونے والی شدید فائرنگ کے تبادلے میں 14 دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقے میں سیکیورٹی آپریشن بدستور جاری ہے اور اس گھناؤنے اور بزدلانہ حملے کے تمام ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں :پاکستان کے ڈیفالٹ رسک میں گزشتہ 12 ماہ میں بڑی کمی آگئی، بلوم برگ
آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور عوام مل کر بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہمارے بہادر سپاہیوں اور معصوم شہریوں کی یہ قربانیاں قوم کے اس پختہ عزم کی عکاسی کرتی ہیں کہ وطن عزیز کے تحفظ اور سلامتی کے لیے ہر قسم کی قربانی دی جائے گی۔





